نیب لاہور میں نواز شریف کی آج ممکنہ پیشی ، سیکیورٹی انتظامات مکمل ، نوٹس ہی نہیں ملا تو پیشی کیسی : مسلم لیگ ن

صفحہ اول


لاہور (خبر نگار،مانیٹرنگ ڈیسک ) نیب لاہور کی جانب سے نوٹس پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کا آج نیب لاہور میں پیش ہونے کا امکان ہے جبکہ حسین اور حسن نواز بیرون ملک ہونے کے باعث پیش نہیں ہو سکیں گے ، سابق وزیر اعظم کی ممکنہ پیشی کی منا سبت سے نیب لاہورمیں پرسکیورٹی کے انتظامات بھی مکمل کرلیے گئے ہیں اور ایک ایس پی ، دو ڈی ایس پی سمیت دو سو سے زائد افسران اور اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیاہے ، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہاہے سابق وزیراعظم نوا ز شر یف آ ج نیب میں پیش نہیں ہوں گے،انہیں نوٹس ہی موصول نہیں ہوا تو وہ کیسے نیب میں چلے جائیں؟۔ نیب حکام کا کہنا ہے پاناما کیس کے فیصلہ کی روشنی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسین اور حسن نواز سمیت خاندان کے دیگر افراد کیخلاف 11سے زائد کیسوں کی تحقیقا ت شروع کر دی گئی ہے جس میں عزیزیہ سٹیل ملز ، حدیبیہ پیپر ملز ، رائیونڈ روڈ تعمیر سمیت متعدد کیسوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں، عزیزیہ سٹیل ملز کیس میں تحقیقات کیلئے شریف خاندان کو باقاعدہ طلب کیا گیا ہے جس کیلئے آج صبح کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کیساتھ مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں اور کارکنوں کی آمد کی بنا ء پر سکیورٹی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس پر لاہور پولیس نے ایک ایس پی کی نگرانی میں دو ڈی ایس پیز اور آٹھ انسپکٹرز سمیت 200سے زائد اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے ۔اس ضمن میں ایس پی سکیورٹی عبادت نثار نے بتایا کہ نیب کی ڈیمانڈ پر نیب بیورو لاہور کی عمارت اور سٹاف کی سکیورٹی کیلئے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اورچار ریزرو تعینات کردی گئی ہیں۔ادھر الیکٹرانک میڈیا کے مطابق شریف فیملی کے ذرائع نے بتایا ہے حسین اور حسن نواز کو نیب کی جانب سے پیشی کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز قائم کرنے کیلئے 2 ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔ بدھ کے روز خبر سامنے آئی تھی نیب نے شریف خاندان کے تین افرادجن میں حسن ،حسین نواز اور طارق شفیع شامل ہیں کو 18 اگست کو طلب کرلیا ہے تاہم شریف خاندان کے ذرائع نے نیب کی جانب سے طلب کیے جانے کی تصدیق نہیں کی۔
نیب لاہو رسکیورٹی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)قومی احتساب بیورو (نیب)نے شریف خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے سعودی حکومت کو خط لکھ دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز سمیت دیگر کے اثاثوں کی تمام تفصیلات سعودی حکومت سے مانگ لی ہیں ۔ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے لکھے گئے خط میں جو تفصیلات سعودی حکومت سے مانگی گئی ہیں ان میں عزیزیہ مل کی خرید و فروخت، مل کی خریداری کیلئے ادائیگی کے ذرائع اور دیگر معلومات شامل ہیں ، خط میں سعودی حکومت سے تمام تفصیلات 30 اگست تک فراہم کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے ، دوسری جانب نیب کی طرف سے لکھا گیا ایک خط سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو موصول ہوگیا ہے جس میں نیب آرڈیننس 1999 کے تحت وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب کی طرف سے پاناما کیس کے فیصلے کے تحت لکھے گئے خط میں اسحاق ڈار ، انکی اہلیہ تبسم ڈار، دوبیٹوں علی ڈار، مجتبیٰ حسنین ڈار اور بہو اسما ڈار سے متعلق تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے ایس ای سی پی کو نوازشریف یا ان کے خاندان سے متعلق کوئی خط نہیں ملا جبکہ نواز شریف اور ان کے خاندان کی تفصیلات ایس ای سی پی پہلے ہی جے آئی ٹی کو دے چکا ہے۔خیال رہے قومی احتساب بیورو سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ایم این اے کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد صفدر کیخلاف راولپنڈی،اسلام آباد کی احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کریگا اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق انہیں 6 ماہ میں ان کا فیصلہ کرنا ہے۔ ادھرنیب کو سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی فیملی کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کیلئے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم ٹین مل گیا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے نیب کی دوسری استدعا منظور کر تے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے والیم 10 کی چار مصدقہ نقول فراہم کر دی ہیں، وا لیم دس 415 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ جبکہ نیب نے عرفان منگی اورواجدضیاکی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے والیم 10 میں موجودتمام خط وکتابت عرفان منگی کے ذریعے کی گئی تھی، عرفان منگی نیب کے انٹرنیشنل کوآرڈینیشن ونگ میں خدمات انجام دے چکے ہیں، یوایای سے کاغذات کی وصولی کیلئے بھی عرفان منگی کوبھیجاگیاتھا، نیب کا کہنا ہے اس ضمن میں والیم 10 سے متعلق عرفان منگی کی معاونت کی ضرورت ہے۔

نیب خط