داعش کے 70فیصد دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے ،نیٹو دہشگردوں کو عالمی برادری کی مدد حاصل ہے ،ترک صدر

صفحہ اول

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان نیٹو مشن نے کہاہے کہ داعش کے 70فیصد دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے ،پاک افغان سرحد کے قریب داعش کے متعدد دہشتگرد موجود ہیں اوراجتماعی کوششوں سے ہی دہشتگردی کیخلاف کام کر سکتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ترجمان نیٹو مشن نے مزید کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ باعث تشویش ہے ،دونوں ممالک مل کر دہشتگردوں کیخلاف کام کریں ۔
ترجمان نیٹو

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ داعش ، بوکو حرام اور القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کو عالمی برادری کی جانب سے مدد مل رہی ہے۔ داعش کے دن گنے جاچکے ، اس کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی قیادت میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی مدد سے فتح حاصل کر لی جائے گی، اسد مخالف مقامی فورسز کی امداد جاری رکھیں گے۔ فتح اللہ گولن کی تنظیم نے تعلقات خراب کرانے کیلئے روس کا طیارہ گرانے میں کردار ادا کیا تھا۔ سیکولرازم کو دین کے خلاف نہیں سمجھتا بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں تمام مذاہب اور عقیدوں کے ماننے والوں کو اعمال کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔العربیہ نیوز چینل کودئیے گئے خصوصی انٹرویو میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ شام میں اسد رجیم نے تقریباً دس لاکھ بے گناہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا ہے۔ ترکی 28 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے جبکہ مزید شامی مہاجرین کو بسانے کیلئے جرابلس اور الرائے کے درمیان نوفلائی زون قائم کیا جانا چاہیے۔خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مسلسل عمل ہے۔ ترکی اسد مخالف مقامی فورسز کی ضروری تربیت کی شکل میں امداد جاری رکھے گا۔ترک صدر نے گزشتہ سال جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سازش امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کی قیادت میں دہشت گرد تنظیم نے تیار کی تھی لیکن ہم اللہ کی مہربانی اور عوام کی مخلصانہ حمایت سے حکومت کا تختہ الٹنے کی اس سازش کو ناکام بنانے میں کامیاب رہے۔ اسی تنظیم نے ہی ممکنہ طور پر روس کا لڑاکا طیارہ مارگرانے میں کردار ادا کیا تھا تاکہ روس اور ترکی کے درمیان مضبوط تعلقات کو نقصان پہنچایا جاسکے۔انہوں نے کہا ممکن ہے کہ روس اور ترکی کے مابین تعلقات سے کسی کو مسئلہ ہو لیکن خطے کے مستقبل اور استحکام کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ وہ سیکولرازم کو دین کے خلاف نہیں سمجھتے بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں تمام مذاہب اور عقیدوں کے ماننے والوں کو اعمال کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔اس کو مذہبی لوگوں پر بعض آراء مسلط کرنے کی شکل سمجھنا درست نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ افراد سیکولر نہیں ہوسکتے بلکہ سیکولر ریاست ہونا ایک اہم قدم ہے۔ ریاست مذہبی معاملات میں غیر جانبدار ہوتی ہے اور وہ تمام مذاہب اور عقائد سے ایک ہی جیسے فاصلے پر ہوتی ہے۔ سیکولرازم کا مقصد یہ ہے کہ ریاست تمام گروپوں کو آزادیوں کی ضمانت دیتی ہے اور وہ کسی ایک گروپ سے امتیازی سلوک نہیں کرتی۔مصر سے تعلق رکھنے والی تنظیم اخوان المسلمون کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ہمارے ملک میں بہت سے نظریاتی گروپ اور تنظیمیں ہیں جو آزادانہ طور پر کام کررہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اخوان المسلمون جنگجو گروپ کے بجائے ایک نظریاتی جماعت ہے جس کے خلاف مسلح اور متشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اگر یہ تنظیم ریاست مخالف سر گرمیوں میں ملوث ہوئی تو اس کے بارے میں بھی میرا وہی موقف ہوگا جو دوسری دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں ہے۔
ترک صدر