امریکہ آنیوالے سیاحوں کی تعداد میں 63 لاکھ کمی

صفحہ اول


واشنگٹن: (مانیٹرنگ ڈیسک) جنوری اور فروری امریکہ میں ٹور ازم انڈسٹری کے لیے اچھے ثابت نہیں ہوئے۔ حتیٰ کہ امریکہ اور برطانیہ کے مابین خالی فلائٹوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک امریکی افسر کے مطابق سوا تین لاکھ میں سے صرف سوا سو افراد سفری پابندیوں کا نشانہ بنیں گے۔ لیکن یہ تو تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ پابندی کے اگلے ہی روز امریکی ہوائی اڈے ’’جیل خانوں‘‘ کا سا منظر پیش کر رہے تھے۔ ہوائی اڈے کے ہر کونے میں سینکڑوں لوگوں سے پوچھ گچھ جاری تھی۔ چند دنوں کے اندر اندر بہت سے افراد ڈی پورٹ کر دئیے گئے تھے۔ امریکہ کا سفر نہ کرنے کے حوالے سے جاری کردہ ٹریول گائیڈز نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اب ناصرف غیر ملکی بلکہ امریکی خود بھی سفر سے گریزاں ہیں۔ متعدد پروفیشنلز نے بھی امریکہ میں ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت نہ کرنے میں ہی عافیت جانی۔ شاید برطانیوں کو امریکہ روانگی میں دلچسپی نہیں رہی۔ ’’گلوبل انسٹی ٹیوٹ فار ٹریول ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے میں امریکہ کی بکنگ میں 18.5 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اگرچہ عالمی طور پر ٹورازم انڈسٹری میں 2016ء4 میں ایک فیصد انحطاط دیکھنے میں ا?یا مگر امریکہ کے لئے فلائٹس کی بکنگ میں 22 فیصد تک کمی کچھ اور ہی ظاہر کرتی ہے۔سب سے زیادہ نقصان سانس فرانسسکو، نیویارک اور لاس ویگاس کو ہوا ہے، جہاں ا?ن لائن بکنگ میں کمی کے بعد ہوٹل نے اپنے کرائیوں میں 32 سے 40 فیصد تک کمی کر دی ہے۔ صرف فلاڈیلفیا میں ایک بڑی کانفرنس منسوخ ہونے سے شہری حکومت کو کم از کم 70 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ انتخابات سے پہلے تو فلاڈیلفیا کی شہری انتظامیہ کو سیاحوں کی تعداد میں 4 لاکھ اضافے کی توقع تھی لیکن اس ان کی تعداد میں مسلسل کمی نے شہری انتظامیہ کے ہوش اڑا دئیے ہیں۔ بعض دوسرے شہروں کے لئے سیاحوں کی تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے میں تین لاکھ کی کمی ہونے کا خدشہ ہے۔اگرچہ امریکہ نے صرف 6 ممالک کے مہاجرین اور سیاحتی ویزہ رکھنے والوں کی ا?مد پر پابندی لگائی ہے، لیکن برطانیہ میں ان ممالک کے سے تعلق اور دوہری شہریت رکھنے والوں کو امریکہ کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اسی لئے امریکہ جانے والی کئی فلائٹس میں خال خال ہی مسافر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک فرم نے سال بھر میں سیاحوں کی تعداد میں 63 لاکھ کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جس سے امریکہ کو 11 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا