روسی مداخلت ، ایف بی آئی کی اپنے صدر کی ٹیم کیخلاف تفتیش’’بگ باس‘‘ کے ساتھی امریکی کانگرس کمیٹی کے سامنے ’’لائن حاضر ‘

صفحہ اول

‘ واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے کانگریس کے سامنے پیشی کے دوران سرکاری طور پر تصدیق کر دی ہے کہ ان کی ایجنسی نے موجودہ حکومت کے ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے ساتھ میل جول کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انٹیلی جنس ایجنسی نے اپنے قانونی اختیارات کا غیر جانبدارانہ استعمال کرتے ہوئے اپنے ’’بگ باس‘‘ ( صدر ٹرمپ )کی ٹیم کے ارکان کو’’ لائن حاضر‘‘ کرتے ہوئے ان کی چھان بین کا آغاز کیا ہے۔ کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے اپنی شہادت شروع کرتے ہوئے انہوں نے یہ غیر معمولی سنسنی خیز انکشاف کرکے ہلچل پیدا کر دی۔ اگرچہ یہ اقدام امریکہ کے آئینی اور جمہوری تقاضوں کے عین مطابق ہے، تاہم اس جرأت مند فیصلے کا کریڈٹ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو جاتا ہے جنہوں نے سارے دباؤ کو نظر انداز کرکے ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ برس کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی جو وسیع تر تحقیقات ہو رہی ہے، صدر ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے ارکان سے تفتیش اس کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد ان کے روسی حکومت کے ساتھ میل جول اور باہمی تعاون کا کھوج لگانا ہے۔ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ سارا کام بہت پیچیدہ ہے اس لئے میرے لئے ممکن نہیں کہ میں آغاز میں اس کا ٹائم ٹیبل فراہم کرسکوں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایف بی آئی یا محکمہ انصاف کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ ٹرمپ کے انتخابی ہیڈ کوارٹر کے ٹیلی فون اوباما نے ٹیپ کرائے تھے۔ قبل ازیں کانگریس کمیٹی کے چیئرمین اور کیلیفورنیا سے ری پبلکن پارٹی کے رکن ڈیون نیونز نے بھی اس امر کی تردید کی کہ ٹرمپ ٹاور کے ٹیلی فونز کو خفیہ طور پر ٹیپ کیا گیا تھا۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ عام حالات میں اس طرح تحقیقات پر پبلک میں بحث نہیں کی جاتی لیکن عوام کی زبردست دلچسپی کے باعث اس کی خصوصی اجازت حاصل کی گئی ہے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کے ساتھ نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے ڈائریکٹر مائیکل راجرز نے بھی اپنی شہادت پیش کی۔ روس کی مداخلت کا مسئلہ صدر ٹرمپ کے ابتدائی دو ماہ کے عرصے میں خاصی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ کانگریس کمیٹی کے چیئرمین ڈیون نیونز نے اس موقع پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’’پہلی بار امریکی عوام اور تمام سیاسی جماعتیں روس کے خطرے پر توجہ دے رہی ہیں‘‘ سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی بھی اس نوعیت کی سماعت ماہ رواں کے آخر میں کرے گی۔ صدر ٹرمپ روسی مداخلت کی تردید کرتے رہے ہیں جبکہ اس معاملے کی تفتیش کرنے والے حکام کو یقین ہے کہ روس نے ٹرمپ کو جتوانے کیلئے ڈیمو کریٹک پارٹی کے کمپیوٹرز کو ہیک کیا تھا۔

ایف بی آئی