حامد سعیدکاظمی اور ساتھی بری ، خواجہ آصف کیخلاف نظر ثانی کی اپیل مسترد ، سندھ میں شراب بیچنے کی اجازت

صفحہ اول

 اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے حج کرپشن کیس میں ماتحت عدلیہ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی سمیت دیگر ملزموں کو باعزت بری کردیاہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت مکمل ہونے پر ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیرحامد سعید کاظمی، راؤ شکیل اور آفتاب الاسلام کو باعز ت بری کردیا۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں حامد سعید کاظمی،اس وقت کے سابق جوائنٹ سیکرٹری راجہ آفتاب اسلام اور سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل سمیت دیگر ملز موں پر الزام تھا کہ انہوں نے 2010 کے حج انتظامات کے دوران جدہ ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پاکستانی عازمین حج کیلئے عمارتیں کرائے پر لینے میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیاں کیں اور کروڑوں روپے زائد وصول کئے۔جس کا مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)میں درج تھا۔حج سکینڈل سامنے آنے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے حامد سعید کاظمی اور حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام(ف)سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔حامد سعید کاظمی پر بدعنوانی کے الزام میں 30 مئی 2012 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم وہ اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے رہے۔تاہم بعدازاں جون 2016 میں اسلام آباد کے سپیشل جج سینٹرل ملک نذیر احمد نے حج کرپشن کیس میں جرم ثابت ہونے پر سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو 16 سال قید کی سزا سنادی تھی۔کرپشن کیس میں سابق جوائنٹ سیکریٹری مذہبی امور راجہ آفتاب کو بھی 16 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)حج را شکیل کو 40 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ماتحت عدالت نے تینوں ملزمان کو 15 ، 15 کروڑ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی۔

حامد سعیدکاظمی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ نے لیگی ایم این اے خواجہ آصف کے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کی درخواست خارج کر دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حلقہ این اے 110میں دوبارہ الیکشن کرانے کے حوالے سے تحریک انصاف کے عثمان ڈار کی نظر ثانی اپیل خارج کر دی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ الیکشن ریکارڈ مال خانوں میں پھینکا جاتا ہے۔کوئی گراؤنڈ موجود نہیں جس پر نظر ثانی کی جائے ، سپریم کورٹ نے درست فیصلہ کیا تھا۔آپ کے دس لوگوں کے کہنے پر پورا الیکشن کیسے کالعدم قرار دئیے دیں۔ غیر تصدیق شدہ ووٹوں کو جعلی نہیں کہہ سکتے۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے سندھ میں شراب خانے کھولنے کا عبوری حکم سنا دیا۔تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے سندھ میں شراب خانوں پر ایک ماہ کی پابندی کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی اور وکلا کے دلائل سننے کے بعد سندھ میں شراب خانے کھولنے کا عبوری حکم سنا دیا۔سماعت کے دوران شراب دکان مالکان کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں ہمیں سنا نہیں گیا۔اس موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ کوئی قانون پر عملد ر آمد نہیں کرتا تو پولیس کارروائی کرے ،شراب کی ریگو لیشن ہائی کورٹ کا کام نہیں۔
عبوری فیصلہ