جسٹس انور ظہیر جمالی ترکی روانہ ،جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ چیف جسٹس خود کرینگے :جسٹس ثاقب نثار

صفحہ اول


اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی 7 روزہ دورے پر ترکی روانہ ہوگئے،سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس ثاقب نثار نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان سے حلف لیا،میڈیا رپورٹس مطابق ہفتہ کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں سپریم کورٹ کے ججز صاحبان ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل ،وکلاء اور بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔

اسلام آباد(اے این این) چیف جسٹس سپریم کورٹ کے دورہ ترکی کے باعث پانامہ لیکس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا قیام یکم مئی تک موخر کر دیا گیا فیصلہ وطن واپسی پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی خود کریں گے ۔قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا حتمی فیصلہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی وطن واپسی پر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے ہی اپنی ذمہ داریاں نبھاؤں گا ، کمیشن پر فیصلے کا مجاز ہوں نہ ہی استحقاق ہے۔ بطور قائم مقام چیف جسٹس میرے اختیارات محدود ہیں ۔جسٹس دوست محمد نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ پانامہ لیکس پر تحقیقات کیلئے حکومت اور اپوزیشن کا رویہ متوازن نہیں ہے اپوزیشن کمیشن بنانے پر پوائنٹ سکورنگ کررہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ انکوائری کمیشن کے ٹرمزآف ریفرنس کا دائرہ حکومت نے وسیع کیا ہے،الزام لگانے والا اگر چور ہے تو اس کیخلاف بھی تحقیقات ہونی چاہیں پانامہ لیکس پر تحقیقات ہونا بیس کروڑ عوام کا حق ہے جو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔پاکستان نے ہمیں سب کچھ دیا ہے جمہوریت میں تسلسل نہ ہونے سے نظام مضبوط نہیں ہوسکا انتخابی عمل کا تسلسل چھلنی کا کام کرتا ہے ۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی ایک ہفتے کیلئے ترکی کے دورے پر ہیں اور وطن واپسی کے بعد حکومتی خط کا جائزہ لیں گے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر طارق محمود کا کہنا تھا کہ یہ ایک پیچیدہ سیاسی معاملہ ہے اس لیے اگر کمیشن ایک ہفتے بعد قائم کیا جاتا ہے تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔پنجاب کے سابق ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ عدالتی کمیشن کے حوالے سے قائم مقام چیف جسٹس کا کوئی بھی فیصلہ سودمند ثابت نہیں ہوگا، کیونکہ اپوزیشن جماعتیں پاناما لیکس کے معاملے پر چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کا مطالبہ کر رہی ہیں۔واضح رہے کہ جسٹس انور ظہیر جمالی ایک ہفتے کے دورے پرترکی میں ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق کمیشن جب چاہے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے کسی بھی عالمی آڈٹ فرم اور فرانزک ماہرین کی خدمات لے سکتا ہے جس کے تمام اخراجات فوری طور پر حکومت کو ادا کرنا ہوں گے ۔ کمیشن اخراجات کی منظوری لینے کا بھی پابند نہیں ہو گا ۔ وزیراعظم نوازشریف نے بھی متعلقہ اداروں کو کمیشن سے مکمل تعاون کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس ایک ہفتے کے لئے ترکی کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں اور وہ وطن واپسی پر یکم مئی کو دوبارہ اپنے عہدے کا جارچ سنبھالیں گے۔