قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 64

گھنگروٹوٹ گئے

خوشتر صاحب کے علاوہ دہلی کی ایک اور عورت بھی مجھے ابھی تک یاد ہے۔ کلیم عثمانی صاحب دہلی کے رہنے والے ہیں۔ ان کے عزیز اب بھی وہاں آباد ہیں۔ ایک بار ہم اس دہلی کلاتھ مل کے مشاعرے میں وہاں گئے۔ ویسے تو ہم موتی محل ہوٹل میں ٹھہرتے تھے۔ دہلی کے کھانوں کی بات چلی تو انہوں نے کہا کہ میرے کچھ عزیز کل بھی اصرار کر رہے تھے کہ کیوں نہ ان کی دعوت قبول کر لی جائے۔ میں ان دنوں ماہنامہ ’’شمع ‘‘ والوں کی کوٹھی کے Diplomat Enclave میں ٹھہراہوا تھا۔ یہ کوٹھی نئی نئی بنی ہوئی تھی اوراتنی خوبصورت تھی کہ لوگ اسے دیکھنے کیلئے آتے تھے۔ ’’شمع ‘‘ والوں نے مجھے ٹھہرارکھا تھا اور باقی لوگ زیادہ تر موتی محل ہوٹل میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔
ہم کلیم عثمانی صاحب کے ساتھ ان کے کسی عزیز کے ہاں کھانے کے لئے گئے تو دیکھا کہ سب کھانا ایک سے ایک بڑھ کر لذیذ تھا۔ ہر کھانے میں الگ طرح کی مرچیں اور مصالحے استعمال کئے گئے تھے۔ اگر ایک ڈش میں سبز مرچوں کا گوشت ہوتا تو دوسروں میں سرخ مرچ یا کالی مرچ کا ۔ کھانے سبھی لذیذ تھے اس لئے میں کھاتا چلا گیا۔ اس زمانے میں میری خوراک بھی اچھی خاصی تھی لیکن خوراک سے بھی زیادہ کھا گیا۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 63  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
کھانے سے فارغ ہو کر جب میں رات کے گیارہ بارہ بجے ’’شمع ‘‘ والوں کے ہاں پہنچا تو وہ سوئے ہوئے تھے۔ میں سیدھا مہمان خانے والے کمرے میں چلا گیا اور سو گیا۔ تقریباً دو بجے رات میرے معدے میں زندگی کا شدید ترین درد اٹھا۔ اس کے ساتھ ہی انتڑیوں میں بھی شدید جلن ہونے لگی ۔ میں بے چین ہو گیا۔ سمجھ نہ آئی کہ کیا کروں۔ کوٹھی اتنی بڑی تھی کہ کسی اور سے رابطہ ہی نہیں تھا۔ پھر مجھے بھی حجاب محسوس ہو رہا تھا کہ رات کے اس پہر میں دوسرے کمروں کے دروازے کیوں کھٹکھٹاؤں ۔ احتیاط میں نے پانی شروع کیا اور پانی پی پی کر وقت گزارا۔ اس سے کوئی افاقہ تو نہ ہوا لیکن وقت گزرتا رہا۔ جب پوپھٹی تو میں باہر نکل کر ٹیکسی میں بیٹھا اور ڈرائیور سے کہا کہ اُردو بازار کی طرف لے چلو۔ وہاں میں نے ایک دودھ دہی والے کی دوکان پر ٹیکسی رکوائی اور آدھ سیردہی اور ایک پاؤ دودھ کی لسی بنوائی۔ دوکاندار میری طرف غور سے دیکھنے لگا کیونکہ وہاں آدھ سیر دہی کا شاید دستور نہیں ہوگا۔ یہ لسی وہاں سے پی کر میں واپس آیا۔ اتنی دیر میں میرا پیٹ بھی چل گیا۔ اسی اثناء میں یونس دہلوی بھی وہاں آئے۔ میرا رنگ پیلا دیکھ کر کہنے لگے کہ کیا ہوا ۔ میں نے سارا واقعہ سنایا تو پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ مجھے خبر رات ہی میں کیوں نہیں کی۔ میں اس معدے کے درد اور انتڑیوں کی جلد کا علاج تقریباً دو تین ماہ تک کرواتا رہا۔تب کہیں جا کر صحت یابی ہوئی۔
نظام الدین اولیاء کا مزار
میں مزار پرست نہیں ہوں لیکن اس لحاظ سے میں مزاروں پر چلا بھی جاتا ہوں کہ میرا مقصد وہاں جانے کا وہ نہیں ہوتا جو بعض شرک میں مبتلا لوگوں کا ہوتا ہے۔ وہ لوگ مزار سے کچھ مانگنے جاتے ہیں۔ میں یہ کام نہیں کرتا ۔ میرے ذہن میں تو مزار والے بزرگ کی وہ زندگی ہوتی ہے جو وہ اپنے وقت میں گزار چکا ہوتا ہے۔ جس میں انہوں نے لوگوں کی اصلاح خدمت خلق اور اشاعت دین کی کوشش کی ہوتی ہے ۔ تو میں ان خدمات کی وجہ سے اس کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لئے جاتا ہوں۔
اس بار جب میں دہلی گیا۔ یہ غالباً 1981 ء کی بات ہے تو میں نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر اس خیال سے گیا کہ ان کے ساتھ ہی امیر خسرو کے مزار پر جاؤں گا۔ پھر اس کے ساتھ ہی غالب کا مزار اور غالب اکیڈمی کا دفتر بھی تھا۔ وہاں جا کر یہ سب چیزیں ایک ساتھ ہی دیکھنا چاہتا تھا۔ نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر خواجہ حسن نظامی ثانی متولی ہیں۔ ان سے پہلے ہی ملاقات ہو چکی تھی۔ اس لئے میں نے فون کر کے انہیں کہا کہ ہم آرہے ہیں۔
ہم وہاں پہنچے تو میری بیوی بہت خوش ہوئی کہ ہم اتنے بڑے بزرگ کے ہاں آئے ہیں۔ میں خود بھی خوش تھا۔ میں خواجہ حسن نظامی ثانی کو ساتھ لے کر خاص طور پر امیر خسرو کے مزار کے اندر گیا اور وہاں جا کر بیٹھ کر میں نے لمبی دعا کی جو یہ تھی کہ یااللہ جتنا بڑا شاعر‘ خلاق اور تباع یہ شخص ہے جو اس قبر میں لیٹا ہوا ہے اور جتنا نام اس نے پایا ہے مجھے اس کا عشرِ عشیر دے دے۔ میں نے وہاں یہ دعا مانگی اوردعا کے بعد دل میں بڑا اطمینان لے کر اٹھا۔
اس کے بعد پاکستان میں آکر میں نے امیر خسرو کی ایک فارسی نظم سے تاثر لے کر اُردو میں ایک نظم کہی ۔ خدا جانے دعائیں قبول ہوتی ہیں یا نہیں ہوتیں لیکن اس دعا کے بعد دل کو بہت سکون ملا کہ میں نے اللہ سے جو مانگا ہے بڑا مناسب اور واجبی سامانگا ہے۔ جس شخص کو خوبیوں میں سے میں نے ایک ریزہ مانگنے کی کوشش کی ہے مجھے یہی کچھ کرنا چاہیے تھا ۔ اگر میری دعاو قبول ہو چکی ہے تو زہے نصیب اور اگر قبول نہیں ہوئی تو اب بھی میری خدا سے دعا یہ ہے کہ وہ میری یہ دعا پوری کر دے۔
جج سنگھ
1950 ء کے بعد میں ‘ میری بیوی اور میرا بیٹا انڈیا گئے تو اندر جیت آرٹسٹ جواب امروز کے نام سے پہچانا جا رہا ہے ‘ سے بھی ملے۔ اب امرتا پریتم سے اس کی شادی ہو چکی ہے اور دونوں میاں بیوی بڑی اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس زمانے میں ان دونوں کی شادی ابھی نہیں ہوئی تھی لیکن اکٹھے رہ رہے تھے ۔ امرتا پریتم ان دنوں اپنی اس نظم سے بہت شہرت حاصل کر چکی تھیں کہ:
اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھے قبراں وچوں بول
میں جب وہاں گیا تو امرتا پریتم سے ملاقات کی خواہش بھی دل میں تھی۔ جب اندر جیت نے دعوت بھی دے دی تو ہم ان کے ہاں گئے ۔ امرتا پریتم کو سب لوگ پیار سے’’ امی‘‘ کہتے تھے ۔ میں نے اپنی بیوی سے امرتا پریتم اور اندر جیت کا تعارف بطور میاں بیوی کروایا تھا۔ لیکن اندر جیت اسے جب امی کہہ کر پکارتے تو میری بیوی حیران ہو کر میری طرف دیکھتی ۔ خیر وہ بولی کچھ نہیں ۔ جب ہم دعوت سے واپس آئے تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ میاں بیوی ہیں لیکن خاوند بیوی کو امی کہہ رہا ہے۔ میں بڑا ہنسا اور اسے ساری بات سمجھائی۔ یہ امرتا پریتم سے میری پہلی ملاقات تھی۔
دہلی میں دو بڑے آدمیوں سے بھی میری ملاقات ہو گئی اور ان کے ساتھ جو لطیفے ہوئے وہ بھی خوب ہیں۔ یہ دہلی کلاتھ ہی کا مشاعرہ تھا۔ ایک مشاعرے میں حضرت فراق گور کھپوری تشریف فرما تھے اور وہ ہر لحاظ سے مجھ سے بڑے سینئر تھے لیکن ان سے دستور جیسے بے تکلفانہ تعلقات بن گئے تھے اور ایک دوسرے سے مذاق بھی ہونے لگے۔ یہ مذاق بڑی راز کے نوعیت کے بھی ہوئے جن کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے البتہ ایک لطیفے کا ذکر کرتا ہوں اور بتانا یہ چاہوں گا کہ اتنا بڑا آدمی بے تکلفی میں یہ توقع نہیں رکھتا تھا کہ بڑا تو چھوٹوں سے بے تکلفی برت جائے لیکن جب کوئی چھوٹا زندہ دلی کی بات کرے تو وہ برامان جائے۔ وہ قطعاً برا نہیں مانتے تھے۔
ہوایوں کے مشاعرے سے کچھ وقت پہلے ہم شاعردہلی کلاتھ مل کے ریسٹ ہاؤس میں بیٹھے تھے۔ فراق صاحب ہی جیسا ایک آدمی وہاں موجود تھا جو مل والوں کا چوکیدار یا دربان تھا ۔ وہ ہاتھ میں ایک لٹھ لئے ‘ بالے ڈالے کرسی پر بیٹھا وہی حرکت کر رہا تھا جو فراق صاحب کر رہے تھے۔ یہ وہی حرکت تھی جو ہر وہ آدمی کرتا ہے جس کے دانت نہیں ہوتے ۔ جن لوگوں کے دانت نہیں ہوتے وہ جب بات نہ کر رہے ہوں تو یوں منہ کو ہلاتے ہیں جیسے کوئی چیز بارے ہوں۔ ادھر فراق صاحب یہ حرکت کر رہے تھے ادھر وہ بھیا وہی حرکت کر رہا تھا ۔ میں نے آس پاس کے ایک دو شاعروں سے کہا کہ میں ذرا فراق صاحب سے دل لگی کرتا ہوں۔ میں گیا اور کہا کہ فراق صاحب ! مجھے اس وقت بہت غصہ آرہا ہے ۔ کہنے لگے کس بات کا پر؟ میں نے کہا بس جانے دیجئے۔آپ مجھے روکئے نہیں ۔ کہنے لگے لیکن بات کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ اب تو انتہا ہو گئی ہے کیونکہ اگر کوئی ہمارے بزرگوں سے مذاق کرے تو ہم چپ نہیں رہ سکتے۔ کہنے لگے کہ کون مذاق کر رہا ہے اور کس سے مذاق کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ دیکھئے سامنے جو بھیا بیٹھا ہے وہ آپ کی نکل کر رہا ہے ۔ انہوں نے پہلے اس کی طرف دیکھا اور پھر ایک لمبی ہوں کی۔ پھر ہنس کر مجھے کہنے لگے کہ بدمعاشیوں سے باز آجاؤ۔ پھر ایک قہقہہ لگا کر کہا کہ اب تمہارا میری طرف ایک نمبر ہو گیا ہے۔ اسے چکا لیں گے۔
دوسرا لطیفہ حضرت یاس یگانہ چنگیزی سے متعلق ہے ۔ ان سے جب میری ملاقات ہوئی تو پہلی ہی ملاقات میں کہنے لگے کہ یار میں نے ایسا قتیل پہلی بار دیکھا ہے جو مردہ نہیں ہے بلکہ باقاعدہ باتیں کر رہا ہے۔ یا پھر ایک ایسا مردہ ہے جو چل پھر بھی رہا ہے اور باتیں بھی کر رہا ہے ۔ میں نے کہا جی ٹھیک ہے میں نے بھی ایسا چنگیزی پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جس کے ہاتھ میں نہ توتلوار ہو اور نہ ہی تیر کمان حتیٰ کہ اس وقت تو آپ کے ہاتھ میں قلم بھی نہیں ہے۔ وہ میرا جواب سن کر بہت ہنسے اور کہنے لگے کہ تم صوبہ سرحد سے ہو اور وہاں ہی ایسے زندہ دل لوگ ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ وہاں جا کر دیکھئے ۔ آس پاس سے زندہ دلیاں آپ کو گھیر لیں گی۔ وہ میرا جواب سن کر بہت خوش ہوئے۔
ایسے بزرگ اس دنیا میں اب کہاں۔ اب تو اپنے کسی ہمعصر سے بھی دل لگی کر لو تو وہ دشمنی پر اتر آتا ہے اور جب تک دس بارہ آدمیوں میں آپ کی برائی نہ کر لے اسے چین نہیں آتا۔
دہلی کے اور دوستوں میں ایک Typicalدوست سے اس وقت علیک سلیک ہوئی جب میں نے شروع شروع میں وہاں کے مشاعروں میں جانا شروع کیا۔ ان صاحب کا نام اوتار سنگھ ہے لیکن جج سنگھ کہلواتے ہیں۔ یہ پڑھے لکھے نوجوان تھے اور ادب سے شغف رکھتے ہیں۔ پچھلے دنوں میں نے انہیں بھارتی ٹیلی ویژن پر دیکھا وہ کچھ پروگراموں کی کمپیئرنگ بھی کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس سے پہلے جب مجھ سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ معاشی چکر میں مبتلا تھے۔ پھر انگلینڈ میں جا کر ملازمت بھی کرتے رہے۔ وہاں سے مالی حالت ٹھیک کر کے واپس انڈیا آگئے اور آکر گھریلو زندگی بسر کر رہے ہیں۔میں جب پچھلی مرتبہ گیا تو ان سے اور ان کی بیوی سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان کی بیوی بہت اچھی ہیں۔ بچے بھی ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ہر بار جب میں مشاعرے میں جاتا تھا تو جو لوگ میرے ساتھی وہاں دن رات کے بنتے تھے ان میں جج سنگھ بھی شامل ہوتے تھے۔ بعد میں جب دونوں ملکوں میں جھگڑے ہوئے تو ہمارا انڈیا آنا جانا منقطع ہو گیا۔ آخر میں جب شملہ معاہدہ ہوا تو انڈیا ٹی وی نے کچھ لوگوں کو ٹیلی ویژن پر بلانے کا اہتمام کیا۔ ان میں کچھ لوگ کچھ پاکستانی دوستوں کی یادیں تازہ کرنے کیلئے کچھ کلمات کہا کرتے تھے اور کچھ پیغامات بھی دیا کرتے تھے۔
ایک دن انار کلی کی طرف نکل گیا تو جدھر جاؤں لوگ مجھے روک کر کہتے تھے کہ قتیل صاحب رات امرتسر ٹیلی ویژن پر دیکھا کہ ایک سردار صاحب جن کا نام یاد نہیں وہ بازو پھیلا پھیلا کر کہتے تھے کہ لاہور میں میرا ایک یار ہے قتیل شفائی ۔ جسے ملے اس سے کہے کہ مجھے خط لکھے اور میرا سلام بھی دے۔ میرے ذہن میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کون سے سردار صاحب ہیں۔ اب یہ بات مجھے سات آٹھ آدمیوں نے بتائی تھی لیکن کوئی بھی نام نہیں بتاتا تھا ۔ میرا ذہن سردار دوستوں میں نہ تو کنور مہندر سنگھ بیدی کی طرف گیا اور نہ ہی جتندر سنگھ کی طرف گیا کیونکہ وہ اس ٹائپ کے لوگ نہیں تھے اور ویسے بھی ان سے خط و کتابت تھی۔ ان سے میرا رابطہ تھا لیکن اس وقت تک میں نہیں سوچ سکا کہ یہ جج سنگھ ہوں گے ۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں