لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر14

گھنگروٹوٹ گئے

میں بنیادی طور پر مسلم لیگی ہوں اور مسلم لیگ کیلئے قیام پاکستان تک کام کرتا رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کیمونسٹ پارٹی نے بھی بڑے انصاف سے کام لیتے ہوئے اس مطالبہ کو تسلیم کیا تھا اور مسلم لیگ کو تعاون دیا تھا۔ میں کمیونسٹ پارٹی کا ممبر تو نہیں تھا بلکہ سیدھا سادا لیگی تھا لیکن جب تقسیم ہوئی اور میں نے اس کے بعد مسلم لیگیوں کی اکثریت کو لوٹ مار میں مگن دیکھا تو میرا جی مسلم لیگ سے اچاٹ ہو گیا۔ اس دور میں ناجائز الاٹمنٹیں ہو رہی تھیں اور اصل مہاجرین کے علاوہ ’’مقامی مہاجرین ‘‘ کی اصطلاح بھی سننے میں آئی۔ مؤخر الذ کر وہ لوگ تھے جو مسلم لیگ میں شامل تھے یا ان کے ساتھ تھے۔ ان بااثر افراد نے خوب لوٹ مار کی ۔ ہندوؤں کا جو مکان خالی ہوتا تھا‘ تالہ توڑ کر اس کا سارا سامان لے جاتے تھے ۔ چنانچہ میں ذہنی طور پر مسلم لیگ سے دور ہو گیا اور میں نے کہا کہ اب یہ وہ مسلم لیگ نہیں ہے جس کے لئے ہم نے کام کیا تھا۔

لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی...قسط نمبر 13 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


میں جس وقت مسلم لیگ میں کام کر رہا تھا تو ذہن پر پرانی قسم کے اثرات نہیں تھے مثلاً میں اس زمانے میں بھی پیر پرستی ‘ مزار پرستی اور جاگیرداری کے خلاف تھا۔ مسلم لیگ اس وقت تک متعصب جماعت نہیں تھی اور اپنے جائز مطالبات کے باوجود کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی تھی بلکہ ایک مسلم معاشرے کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہی تھی۔ یہاں میں مسلم معاشرے کا مفہوم واضح کر دوں ‘ قائداعظم کے تمام بیانات دیکھ لیں وہ مسلمانوں کیلئے ایک ایسی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے جس میں ان کے اقتصادی حالات کسی کے تسلط میں نہ ہوں ۔ اگر صرف اسلامی یا مذہبی آزادی کی بات ہوتی تو وہ تو انگریز کے زمانے میں بھی تھی۔
جو خیالات میرے اس وقت تک تھے جسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہابیت کے قریب تھے وہ آگے تک چلتے آئے۔ پھر مسلم لیگیوں نے جو زیادتیاں کیں انہوں نے مجھے برگشتہ کر دیا ۔ اچانک پتا چلا کہ انجمن ترقی پسند مصنفین قائم ہوئی ہے جس میں بقول لوگوں کے اکثریت کمیونسٹوں کی ہے حالانکہ ایسا نہیں تھا اس میں کمیونسٹ بھی تھے مگر مجھ جیسے لوگ بھی شامل تھے جو کمیونزم کا صحیح مفہوم بھی نہیں جانتے تھے اور جنہیں ابتداء سے ہی رجعت پسندی کی چیزیں قبول نہیں تھیں۔ چنانچہ ایسے لوگ جن کے نزدیک اس ادبی جماعت کے مقاصد اچھے تھے اور جو مسلم لیگ کے رویے سے بھی دل برداشتہ تھے وہ اس میں شامل ہو گئے۔ دوسرے جو لوگ اس انجمن سے وابستہ ہوئے ان میں ابراہیم جیلس ‘ ابن انشا اور احمد ندیم قاسمی بھی شامل تھے۔
احمد ندیم قاسمی بھی مسلم لیگی تھی اور ہمارے حالات بالکل ایک جیسے ہیں۔ یہ بھی تقسیم کے بعد لیگ سے دلبرداشتہ ہو کر پروگریسورائٹرز میں آئے اور آخر کار اس کے سیکرٹری جنرل بھی بنے۔ اس زمانے میں شاعری کا جو ایک دھارا چلا اس نے ادب کو بہت سے نئے خیالات دیئے اور ادب برائے ادب کا جو نعرہ لگتا تھا اس سے بھی گلو خلاصی ہوئی حالانکہ اگر غور سے دیکھیں تو ادب برائے ادب میں بھی زندگی کا ایک پہلو موجود ہے۔ اب لوگ ادب برائے زندگی کی طرف آئے لیکن ایک زیادتی ہوئی کہ کچھ لوگ فوراً ادب برائے سیاست پر پہنچ گئے ۔ میں ادب برائے سیاست اسے کہتا ہوں جس میں سیدھے نعرے تھے۔ یوں نظر آتا تھا کہ ایک پارٹی نے ایک لائن دی ہے۔ انہوں نے پارٹی لائن نثر میں دی تھی۔ انہوں نے مصرعے سیدھے کر کے اسے منظور کر دیا
میں ان چند ایک شاعروں میں سے تھا جنہوں نے پروگریسو رائٹرز میں رہ کر کبھی پروگریسو باتوں سے انحراف نہیں کیا لیکن شاعری وہ کی جس میں فن آگے آگے رہتا تھا اور مقصد غیر محسوس طور پر کسی پچھلی جگہ پر ہوتا تھا۔ پروگریسو رائٹرز کی طرف سے یہ غزل کی مخالفت کا زمانہ تھا اور وہ کہتے تھے کہ غزلیں ترقی پسند چیز نہیں ہے ۔ اس زمانے میں بھی انڈیا میں مجروح سلطان پوری نے اور پاکستان میں پہلے فیض صاحب نے اور پھر میں نے بڑے پروگریسو ہونے کے باوجود نظم بھی کہی لیکن غز ل کا پرچم بھی بلند کیے رکھا یہی وجہ ہے کہ فیض صاحب نے انتقال سے پہلے میری ایک کتاب کے فلیپ کیلئے لکھا کہ قتیل شفائی ہم میں سے ہے لیکن اس نے کبھی کوئی ہدایت لے کر شاعری نہیں کی۔ جو ہماری منزل ہے یہ بھی اسی منزل کا راہی ہے لیکن راستہ اس کا اپنا ہے اور اس نے اپنا راستہ اختیار کر کے جو مقبولیت حاصل کی ہے وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ قبولیت عامہ ایک سستی چیز ہے لیکن ایسا نہیں ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اچھے برے کی تمیز مستقبل کرے گالیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ آج جو آدمی زندہ ہے اسے قبول کرنے والے کتنے ہیں اور قتیل شفائی اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہے ۔ فیض صاحب کی طرف سے یہ سندمل جانا میرے لئے ایک قابل فخر بات ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ میری نظموں میں مزدور اور کسان کا نام کبھی شاذ ہی آیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں خود کبھی مزدور نہیں رہا۔ زمیندار بھی نہیں تھا کہ اپنی زمینوں پر ہی کسانوں پر ظلم ہوتا دیکھ لوں۔ میں تو ایک رئیس باپ کا بیٹا تھااور میرا تعلق جس طبقے سے تھا اور جو کردار میری زندگی میں آئے وہ کچھ اور تھے ۔ میرا تو سٹوڈپو کا ماحول تھا جس میں بظاہر بڑی چمک دمک تھی پھر جن دو عورتوں سے جذباتی طو رپر میرا واسطہ رہا ان کا پس منظر ہی کچھ اور تھا ۔ اب ایک گائیکہ خواہ کتنی بڑی ہو جائے اور اسے اس کے گانے کی کتنی داد مل جائے لیکن جب یہ ذکر آتا ہے کہ وہ کوٹھے پر بیٹھنے والی ہے اور یہ اس کے کانوں تک پہنچتی ہے تو اس کے تحت الشعور میں جو زلزلہ آتا ہے میں اس کا تصور کر سکتا ہوں۔ اسی طرح عورت جو بہت بڑی لاجپت رائے فیملی سے تعلق رکھتی ہے جو غلط جگہ شادی ہو جانے کی وجہ سے گھر سے نکلی اور فلم کا سہارا لینے کیلئے آئی اور جب اسے تھوڑا سا سہارا ملا تو فلم کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو گیا تو میں اس کے تصورات کا اندازہ کر سکتا ہوں۔
میرا ایک موضوع بانجھ عورت بھی تھا جس کا کوئی مستقبل نہیں۔ اسی طرح میرا ایک موضوع ایکسٹرا عورت بھی ہے جو تمام عمر سٹوڈیو میں گھومتی ہے اور جس کی نسبت ایک مزدور بھی زیادہ پیسے لیتا ہے جبکہ اس ایکسٹرا کے پیچھے گھر میں دو تین بچے بھی پڑے ہوتے ہیں جنہیں چھوڑ کر وہ کام پر آتی ہے۔ اس کے علاوہ میرا موضوع وہ عورتیں بھی ہیں جنہیں جھانسا دے کر اس لائن میں لایا جا تا ہے اور جو کماتی تو لاکھوں ہیں لیکن ان کے پاس ٹکا بھی نہیں ہوتا اور کھانے والے سب کچھ کھا جاتے ہیں۔
میری زندگی میں یہ سب کردار آئے ہیں اور میں نے یہاں وہی فرض ادا کیا ہے جو کوئی اور مزدور اور کسان کیلئے کر سکتا ہے ۔ لیکن جب مجھے مزدور اور کسان کا ذاتی تجربہ ہے ہی نہیں تو اگر میں اس بارے میں کچھ لکھتا تو اس میں بناوٹ اور تصنع ہوتا‘ حقیقت نہ ہوتی ۔ ان کرداروں کو تو میں نے دیکھا ‘ محسوس کیا‘ اپنے خون میں شامل کیا‘ اپنے احساس و جذبات میں گوندھا اور گوندھے کے بعد جو مٹی بنی اس سے میں نے کچھ پیکر تراشے‘ پھر کہیں جا کر وہ پیکر مؤثر نظر آئے۔
فیض صاحب تو کمیونسٹ تھے مگر احمد ندیم قاسمی صاحب لبرل اور پروگریسو ہیں۔ پھر بھی کچھ انتہا پسند لوگ کہتے ہیں کہ ان کی شاعری تو ایسی ہے کہ کوئی بھی لکھ سکتا ہے ۔ حالانکہ یہ بات نہیں ہے ہم پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ اس کا مصنف کون ہے ‘ اس کے خیالات کیا ہیں اور اس نے الفا ظ کو نئے معنی کیا دیئے ہیں۔ یہ تعین کرنے کے بعد جب ہم آگے بڑھتے ہیں تو صاف پتا چل جاتا ہے کہ یہ محض روایتی چیزیں نہیں ہیں اور ادب برائے ادب کی ذیل میں نہیں آتیں۔ یہ ادب برائے زندگی میں آتی ہیں اور پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں سمیٹے ہوئے ہیں۔(جاری ہے)

لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر15 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں