سائرہ افضل تارڑکے والد کی جعلسازی سے زمین ہتھیانے کی کوشش، احتجاج پر گارڈز کا خواتین پر تشدد، فائرنگ

حافظ آباد

حافظ آباد (ویب ڈیسک) جعلسازی سے زرعی زمین اپنے نام کروانے، قبضہ کی کوشش اور مظالم کے خلاف درجنوں خواتین کا وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سائرہا فضل تارڑ کے والد سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری چوہدری افضل حسین تارڑ کے خلاف ان کے آبائی گھر کو لوتارڑ کے باہر احتجاجی مظاہرہ۔

روزنامہ خبریں کے مطابق افضل حسین تارڑ کے گارڈز کی خواتین پر فائرنگ، افضل حسین تارڑ کے مبینہ تشدد اور خاتون کو دبوچنے پر خواتین نے افضل حسین تارڑ کا گریبان چاک کردیا۔ افضل حسین تارڑ نے یونین کونسل نمبر 8 میں ا پنی ہار کامبینہ بدلہ لینے کیلئے ان کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کی کوشش کی،سرعطاءاللہ خان تارڑ کے بیٹے سابق ایم ایل اے ، ایم این اے اور سابق ممبر مجلس شوریٰ چوہدری سیف اللہ خان تارڑ مرحوم کی نواسی سلوت سلمان تارڑ نے کولوتارڑ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے والد سلمان تارڑ اللہ کو پیارے ہوگئے، ان کے اکلوتا بھائی بلال سکندر بھی وفات پاگئے، ان کی وفات کے بعد ان کا اکلوتا بھتیجا شوال سکندر 6 سال کی عمر میں اللہ کو پیارا ہوگیا تو اس کےقتل کے ختم کے موقع پر سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری چوہدری افضل حسین تارڑ اور سابق چیئرمین ضلع کونسل ممتاز حسین تارڑ جو اس کے سوتیلے رشتہ دار ہیں حقائق کو چھپاتے ہوئے کہ اب سلمان سکندر کی کوئی اولاد نہیں رہی ہے ، رانا ظفر اللہ تحصیلدار سے ملی بھگت کرکے جعلسازی سے ان کی جائیداد 50 ایکڑ اپنے نام کروالی جبکہ اس وقت ان کے خاندان کی آخری چشم و چراغ شوال سکندر دنیا فانی سے کوچ کرگیا تھا اور وہ غم میں نڈھال تھے اور انہوں نے سلمان سکندر تارڑ کی جائیداد کو ہتھیالیا کہ سلمان سکندر تارڑ کی کوئی اولاد نہیں ہے جبکہ سلمان سکندر تارڑ کی بیٹی مَیں زندہ سلامت موجود ہوں،جو اس زمین کو کاشت کروارہی ہوں اور اس زمین پر قبضہ ہے جبکہ افضل حسین تارڑ اور میاں ممتاز حسین تارڑ میرے والد کے سوتیلے رشتہ دار وہ جائیداد کے وارث بن گئے ہیں۔

ان افراد نے اپنی ایک رشتہ دار پر یہ ظلم کیا ہے تو عوام پر یہ کیا کیا ظلم کرتے رہے ہوں گے۔ 8سال سے اس زمین کا عدالت سے حکم امتناعی ہے، مگر موجودہ بلدیاتی انتخابات میں اس نے یونین کونسل نمبر 8 میں افضل حسین تارڑ کے خلاف اپنے پھوپھی زاد بھائی مامون جعفر تارڑ کا ساتھ دیا جس میں افضل حسین تارڑ بھاری اکثریت سے ہارگئے تو افضل حسین تارڑ نے اپنی ہار کا غصہ نکالنے کیلئے اس کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور آئے روز مسلح اشتہاری افراد کے ساتھ ان کے کھیتوں میں فائرنگ کرنا شروع کردی۔ اپنی وردی بچانے کیلئے ایس ایچ او خالد خان اس کا ساتھ دے رہا ہے جبکہ اس کا والد وفات پاچکا ہے ، اس کا بھائی بھی اس دنیا میں نہیں رہا، اس کا بھتیجا بھی انتقال کرگیا اور اس کا اپنا بھی کوئی بیٹا نہیں ہے جب خاندان میں کوئی مرد نہیں رہا تو اس علاقہ کی خواتین نے اس ظلم کے خلاف پرامن احتجاج کیا تو افضل حسین تارڑ اپنے ڈیرہ میں موجود تھے، احتجاج کو دیکھ کر سیخ پاہوگئے اور ڈیرہ سے باہر نکل آئے اور ان کے گارڈز نے پرامن احتجاج کرنے والی خواتین پر فائرنگ شروع کردی اور افضل حسین نے ایک خاتون کو سڑک پر دبوچ لیا تو خواتین نے اس خاتون کو چھڑانے کیلئے افضل حسین کے کپڑے پھاڑ دئیے۔
انہوں نے کہا کہ کیا اس جمہوری معاشرہ میں پرامن احتجاج ہر شہری کا حق نہیں وہ نہتی خواتین تو اس ظلم، غنڈہ گردی، اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف پرامن احتجاج کررہی تھیں۔ نہتی خواتین پر فائرنگ، تشدد کرنا کونسے معاشرے کی نشاندہی کرتا ہے صرف ان کو اقتدار کا نشہ ہے اور متعلقہ تھانہ ونیکے تارڑ کے ایس ایچ او خالد خان کو اس واقع کے متعلق بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ تھانہ میں آکر درخواست دیں جب تھانہ پہنچے تو وہ تھانہ سے غائب ہوگئے اور اپنا موبائل بھی بند کرلیا۔ اگر کوئی کارروائی ہوگئی تو صاحب اقتدار اس کی وردی نہ اتروادیں جبکہ 16/17 اشتہاری ملزمان جن کے پاس غیر قانونی اسلحہ ہے وہ دن رات دندناتے پھرتے ہیں۔ کولوتارڑ کو علاقہ غیر بنادیا گیا ہے اور پولیس صاحب اقتدار کے در کی لونڈی بنی ہوئی ہے اور ان کا کوئی جرائم نظر ہی نہیں آتا۔ سلوت سلمان سکندر نے کہا کہ اس کو موت کا خوف نہیں اگر اس کو قتل کردیاگیا تو اقتدار کے نشہ میں چور افضل حسین تارڑ بھی سکون سے نہیں رہ سکیں گے مگر یہ زمین ان کو آسانی سے ہضم نہیں ہوگی۔ کسی کا حق کھانے والا سکون سے نہیں رہ سکتا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سلوت سلمان تارڑ، حامد مختار گوندل ڈی آئی جی کی سوتیلی بیٹی ہیں 5 کتابوں کی مصنف ہیں اور متعدد ٹی وی پروگرام میں انٹرویو دے چکی ہیں۔