ٹیچر کی معذور طالبہ سے مبینہ طورپر جنسی درندگی، بچی ہسپتال منتقل ، پولیس کارروائی سے گریزاں

حافظ آباد

حافظ آباد(آن لائن)گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سکول حافظ آباد کا ٹیچر پانچویں کلاس کی معذور طالبہ کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ حالت خراب ہونے پر بچی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ کئی روز گزرنے کے باوجود پولیس تھانہ صدر نے کوئی کاروائی نہ کی۔علاقہ مجسٹریٹ کے حکم پر متاثرہ طالبہ کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں میڈیکل مکمل کر لیا گیا۔متاثرہ طالبہ کے والد کی جانب سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر پولیس بھی حرکت میں آگئی۔

تفصیلات کے مطابق حافظ آباد کے علاقہ قائد آباد کے رہائشی محنت کش اسحاق احمد کی پندرہ سالہ معذور بیٹی سونیا گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سکول میں زیر تعلیم ہے جہاں سکول کے ٹیچر زوہیب اُسے مبینہ طور پر زبردستی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ٹیچر زوہیب نے جب سونیا کو دوبارہ زیادتی کا نشانہ بنایا تو اُس کی حالت خراب ہو گئی ۔سپیشل مجسٹریٹ سہیل محمود کے حکم پر متاثرہ طالبہ کا ڈ ی ایچ کیو ہسپتال میں میڈیکل کیا گیا ۔سونیا کے والد اسحاق احمد کا کہنا تھا کہ وہ مدد اور ملزم کے خلاف کاروائی کیلئے تھانہ صدر بھی گیا لیکن پولیس نے اسکی نہ ہی بات سنی اور نہ ہی اسکی کوئی مدد کی ۔پولیس کے عدم تعاون کے بعد کاروائی کیلئے متاثرہ بچی کا والد علاقہ مجسٹریٹ عدالت میں پہنچ گیا جس کے بعد عدالت کے حکم پر متاثرہ طالبہ کا ہسپتال میں میڈیکل کیا گیا۔

پاکستان کا طاقت ورترین آدمی جس کی ویڈیو نے دنیا میں تہلکہ برپا کردیا، کہاں رہتا ہے اور خوراک کیا کھاتا ہے؟ جان کر آپ بھی حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں گے

سونیا کے والد کا کہنا ہے کہ زوہیب ڈیڑھ سال سے اُس کی بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا اور کسی کو بتانے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا رہا۔ اسحاق احمد کا کہنا تھا کہ اُس نے اپنی معذور بیٹی کو پڑھنے کیلئے بھیجا تھا لیکن کیا پتا تھا کہ اُستاد ہی درندہ بن چکا ہے ۔ اُس کا کہنا تھا کہ وہ مدد کیلئے تھانہ بھی گیا لیکن پولیس نے اُس کی کوئی بھی مدد نہیں کی جس کے بعد اُسے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ اسحا ق احمد نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے ملزم کیخلاف سخت کاروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

زیادتی کا نشانہ بننے والی سونیا کا کہنا ہے کہ ٹیچر زوہیب نے اُسے سکول کے سٹور روم میں لیجا کر کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا اورجس میں نے اس بارے گھر بتانے کا کہا تو اُس نے مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی ۔ ڈی سی اومحمد علی رندھاوا نے ہسپتال پہنچ کر متاثرہ طالبہ کے والد کو انصاف کی فراہمی کایقین دلاتے ہوئے کہا کہ زیادتی کرنے والے ٹیچر کیخلاف نا صرف محکمانہ بلکہ سخت قانونی کاروائی بھی کی جائے گی۔ دوسری جانب ڈی پی او سردار غیاث گل کا کہنا ہے کہ ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ ملزم کی گرفتاری کیلئے خصوصی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔