برما میں کسی مسجد کی مرمت کی ضرورت پڑے تو کیا کیا جاتاہے؟ وہاں موجود اقرارالحسن نے کئی دن کی خاموشی کے بعدبڑی خبردیدی

انسانی حقوق

ینگون(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے واحد صحافی اقرارالحسن برما میں روہنگیامسلمانوں کے قتل عام کی خبریں عام ہونے پر اندرونی حالات کا جائزہ لینے کے لیے میانمار پہنچے ہیں اور کئی دن کی پراسرار خاموشی کے بعد ایک مرتبہ پھر منظرعام پرآگئے ہیں اور خود بخیروعافیت ہیں تاہم مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں ایسی تفصیلات جاری کردی ہیں کہ جان کرآپ کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے کیونکہ مسلمانوں کو مسجد کی مرمت کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی جبکہ نئی مساجد کی تعمیر پر تین عشروں سے پابندی عائد ہے ، قربانی کرنا بھی مسلمانوں کیلئے تقریباً ناممکن ہے ۔
میانمار کے دیہی علاقے سے اپنی ویڈیو میں اقرارالحسن نے بتایاکہ ”میانمار میں30سال سے نئی مسجد کی تعمیر پر پابندی ہے ، اگر کوئی مسجد شہید ہورہی ہو یا کسی مسجد کی مرمت کی ضرورت پیش آجائے تو مرمت تک کرنے کی اجازت نہیں، اسی طرح آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ میانمار میں مسلمانوں کیلئے قربانی کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ قربانی کے ایک جانور پر مقامی کرنسی میں تقریباً پچاس ہزار روپے ٹیکس دینا پڑتاہے ، اسی طرح اگر جانور کو ایک مہینے تک خود پالتے ہیں تو ٹیکس ایک لاکھ روپے سے زائد ہوسکتا ہے ، اسی وجہ سے یہاں مڈل کلاس کا مسلمان بھی قربانی نہیں دے سکتا ، ان پابندیوں سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ حکومت کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ کس طرح کا ہے ۔
اقرارالحسن نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہیں میانمار پہنچ کر یہ انکشاف ہواکہ ملکی قوانین کی وجہ سے کوئی باشندہ اپنا اسلامی نام نہیں رکھ سکتا، مسلمانوں نے عموماً دو دونام رکھے ہوئے ہیں ، ایک جسے یہاں پر عربی نام کہتے ہیں یعنی عبدالرشید، عبدالرافی یا کوئی بھی اس طرح کا نام جبکہ باقی نام میں بھی مقامی زبان کے الفاظ استعمال کرنا آپ پر لازم ہیں، آپ کی تمام دستاویزات پر یہاں کا مقامی نام ہوگا، یہاں پر کوئی اسلامی نام نہیں رکھ سکتے ، میں آپ کو یہ پوری ذمہ داری کیساتھ بتارہاہوں، اندازہ لگایئے کہ عام مسلمان کو جینے کی کتنی آزادی ہوگی ، جہاں نام رکھنے تک کی آزادی نہیں۔