افغان فورسز کا تخار میں فضائی حملہ ,طالبان کے ضلعی گورنر سمیت 11 عسکریت پسند جاں بحق, قندھار میں جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں 3 پولیس اہلکار ہلاک کئی زخمی

بین الاقوامی

کابل(ڈیلی پاکستان آن لائن) شمالی افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کئے جانے والے ایک فضائی حملے میں طالبان کے  ضلعی گورنر سمیت 11 عسکریت پسند  جاں بحق جبکہ قندہار میں طالبان کے ساتھ  ہونے والی ایک جھڑپ میں 3 افغان پولیس اہلکاروں کی ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق افغان فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیاہے کہ  شمالی صوبہ تخار کے ضلع خواجہ بہاؤ الدین میں ایک ٹھکانے کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں طالبان کے شیڈو ضلعی گورنر مولوی انصاراللہ سمیت 11 عسکریت پسند جاں بحق ہوگئے، اس کارروائی میں 6 عسکریت پسندوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات  بھی موصول ہوئی ہے تاہم طالبان نے مولوی انصار اللہ اور دیگر شدت پسندوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق نہیں کی ۔ دوسری جانب صوبہ بلخ میں بم نصب کرنے کے دوران قبل ازوقت بم پھٹنے کے نتیجے میں ایک عسکریت پسند ہلاک ہوگیا، یہ واقعہ ضلع چمتال میں پیش آیا جبکہ قندہار میں پولیس اورطالبان کی جھڑپ میں 3 پولیس اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ جھڑپ ضلع میوند کے علاقہ شل غمے میں اس وقت شروع ہوئی جب مسلح طالبان نے پولیس پوسٹ پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے واقعے میں 3 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فورسز کی کارروائی میں متعدد طالبان ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ننگر ہار میں 3 ہفتے قبل امریکا کے انتہائی طاقتور ’بموں کی ماں‘ غیر جوہری بم گرانے کے باوجود داعش کا شدت پسند گروپ میدان جنگ میں کھڑا ہے اور علاقے میں اس کا ایف ایم ریڈیو چینل اب بھی نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔جبکہ افغانستان کے دیگر علاقوں میں بھی طالبان کے حملوں میں کئی افغان سیکیورٹی اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم سرکاری حکام نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں ۔