سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ایک فاتح ہیرو کی طرح اسلام آباد کو چھوڑا ٗامریکی اخبار

بین الاقوامی

نیویارک (آئی این پی ) امریکہ ،برطانیہ اور بھارت سمیت دیگر عالمی اخبارات نے نوازشریف کو فاتح ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف کی ریلی نے 30منٹ کا سفر12گھنٹے میں طے کیا اور نوازشریف نے فاتح کی طرح اسلام آباد چھوڑا، پاکستان کے معزول وزیراعظم نوازشریف اب بھی سیاست میں سرگرم اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ واپسی کیلئے پرعزم ہیں۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی جی ٹی روڈ سے لاہور ریلی پر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز ، برطانوی اخبار’’ ڈیلی میل‘‘ بھارتی اخبار ’’ہندوستان ٹائمز سمیت دیگر عالمی اخبارات نے تجزیے اور آرٹیکل شائع کیے جس میں کہا گیاہے نوازشریف کی ریلی نے 30منٹ کا سفر12گھنٹے میں طے کیا اور فاتح کی طرح اسلام آباد چھوڑا۔

برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معزول وزیراعظم نوازشریف اب بھی سیاست میں سرگرم اور پہلے سے بھی مضبوطی کے ساتھ واپسی کیلئے پرعزم ہیں۔اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان کے معزول وزیراعظم نوازشریف کا اصرار ہے کہ انھیں عہدے سے ہٹانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انکا سیاسی مستقبل ختم ہوگیا ہے ۔نوازشریف نے رواں ہفتے ایک ریلی کے ساتھ لاہور جانے اور اپنی نااہلی کو واپس کرنے کیلئے ایک قانونی جنگ لڑنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ میں اپنے آپ کیلئے بحال نہیں ہونا چاہتا بلکہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے جدوجہد کررہا ہوں ۔بھارتی اخبار’’ ہندوستان ٹائمز‘‘ لکھتا ہے کہ نوازشریف نے نااہلی کے بعد خطرات کے باوجود سیکورٹی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے لاہور تک تاریخی ریلی کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ نوازشریف کی ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں سابق وزیراعظم میاں محمد نوا زشریف کو فاتح ہیرو قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بے شک وہ معزول وزیراعظم ہی سہی لیکن انہوں نے وفاقی دارالحکومت کو ایک فاتح جانباز کے طور پر چھوڑا ہے ۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ نواز شریف نے اپنی گھر واپسی کا سفر پوری آن بان کے ساتھ شروع کیا اس موقع پر سیاسی قوت دکھانے کے لیے ان کے ساتھ ہزاروں کارکن بھی موجود رہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا کہ نواز شریف نے عوام کے ساتھ واپسی کے سفر کا ارادہ کرکے شاید کچھ خطرات بھی مول لیے ہیں۔اس موقع پر ن لیگ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس وقت نواز شریف ملک کا واحد اینٹی اسٹیبلشمنٹ لیڈر ہے اور سویلین بالادستی کے لیے کارکن ان کی جدوجہد کے حامی ہیں۔سرکاری حکام نے انہیں سکیورٹی خدشات کے بارے میں آگاہ کیا تھا جبکہ سیاسی اشتعال انگیزی اور دہشت گردوں کے حملے بھی پاکستان میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہیں۔ حتی کہ 2007 میں بے نظیر بھٹو کو ایک سیاسی ریلی میں ہی قتل کیا گیا تھا۔