’جب ہمیں ضرورت پڑے گی تو ایٹم بم۔۔۔‘ سعودی ولی عہد نے پاکستان سے کیا مطالبہ کیا؟ جان کر ہر پاکستانی کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

بین الاقوامی

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) 28اگست 2016ءکو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان چین کے شہر ہینگ ژاﺅ میں ہونے والی جی 20کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے لیکن وہاں جاتے ہوئے راستے میں انہوں نے پاکستان میں بھی کچھ دیر قیام کیا۔ اب پاکستان کے اس مختصر دورے کے دوران ان کے پاکستانی حکام سے ایسے مطالبے کا انکشاف منظر عام پر آ گیا ہے کہ جان کر ہر پاکستانی کا منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا۔ ایم اے صدیقی نے فرائیڈے ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے کہ ”اس دورے میں شہزادہ محمد بن سلمان نے یقین دہانی چاہی کہ سعودی عرب کو ضرورت پیش آنے کی صورت میں پاکستان اسے جوہری چھتری فراہم کرے گا۔“

’اب یہ کام نہ کرنا ورنہ۔۔۔‘ ایران نے سعودی عرب کو اب تک کی خوفناک ترین دھمکی دے دی، پورے عالم اسلام کے لئے انتہائی سنگین خطرہ
آرٹیکل کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے اس مطالبے میں بالخصوص ایران کے ساتھ جنگ کا ذکر کیا اورپاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ اگر ہماری ایران سے جنگ ہوتی ہے تو آپ ہمیں ایٹمی تحفظ دیں گے۔ انہوں نے اعلیٰ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستان کی یمن کی جنگ میں عدم شرکت پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ 40رکنی اسلامی فوجی اتحاد میں اپنی مکمل شرکت کو یقینی بنائے، جس کا اعلان شہزاد محمد نے دسمبر 2015ءمیں کیا تھا۔اسی دورے کے دوران انہوں نے اسلامی فوجی اتحاد کی قیادت جنرل راحیل شریف کو دینے کی تجویز بھی پیش کی۔