چین کا سب سے خطرناک ہتھیار، ایسی چیز بنانا شروع کر دی کہ اگر جنگ ہوئی تو امریکی فوجیں اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکیں گی، تفصیلات جان کر امریکیوں کی ہوائیاں اڑ گئیں

بین الاقوامی

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے لگ بھگ دو سال قبل لیزر ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈرون طیارہ مار گرانے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اب وہ اپنی اس ٹیکنالوجی میں ایسی جدت لانے جا رہا ہے کہ جان کر امریکیوں کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق چینفوجی امور کے ماہر رچرڈ فشر نے انکشاف کیا ہے کہ چین ایسی لیزر ٹیکنالوجی بنارہا ہے جس کے ذریعے سیٹلائٹس کو بھی تباہ کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ وہ برقی مقناطیسی ریل گنز اور پاور مائیکروویو ہتھیار بھی بنا رہا ہے جو مستقبل کی خلاء میں لڑی جانے والی ’روشنی کی جنگ‘ (Light war)میں استعمال کیے جا سکیں گے۔ ان ہتھیاروں کی بدولت اس جنگ میں چین کو امریکہ پر برتری حاصل ہو جائے گی۔


انٹرنیشنل اسیس منٹ اینڈ سٹریٹجی سنٹر کے عہدیدار رچرڈ فشر نے گزشتہ ماہ چین کے اس پروگرام کا انکشاف کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ طور پر چین تیزی کے ساتھ خلاء میں بھی اپنی فوجی برتری قائم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ چینی حکومت اپنے خلائی سٹیشن کے حقیقی مقاصد کو دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کے لیے اپنے خلاء نوردوں کی جانیں لینے سے بھی نہیں ہچکچائے گی۔ وہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کی مرکزی جنگی سیٹلائٹس کو تباہ کر دے گی جس سے امریکہ نئی جنگی سیٹلائٹس لانچ کرنے سے بھی قاصر ہو جائے گا۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ بھی ایسے ہتھیاربنا کر چین کی طرف سے سامنے آنے والے اس خطرے کو جواب دے۔‘‘