آسٹریا میں پناہ کے متلاشی افراد،پاکستانیوں کا تیسرا نمبر

بین الاقوامی

ویانا(این این آئی)آسٹریا کی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ رواں برس پناہ کی تلاش میں آسٹریا آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد گزشتہ برس کی نسبت نصف رہ گئی ہے اور پناہ کی درخواستیں جمع کرانے والوں میں افغان اور پاکستانی شہری نمایاں ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹرین وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمارمیں بتایاگیاکہ رواں برس کے آغاز سے لے کر جولائی کے اواخر تک ملکی حکام کو ساڑھے چودہ ہزار سے کچھ زائد تارکین وطن نے اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ ویانا حکومت کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برس کے اسی دورانیے میں جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستوں کے مقابلے میں تقریبا آدھی ہے۔رواں ہفتے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد مہاجرین نے آسٹریا میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے حکام کو درخواستیں دیں۔

آسٹریا میں پناہ کے متلاشی افراد میں گزشتہ ماہ شامی باشندوں کے بعد سب سے زیادہ تعداد افغانستان کے شہریوں کی تھی۔ تین سو سے زائد افغان شہریوں نے پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔یورو سٹیٹ کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران 535 پاکستانیوں نے آسٹرین حکام کو اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔آسٹرین وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ ماہ پناہ کی دو سو درخواستوں کے ساتھ آسٹریا میں پناہ کے متلاشیوں میں پاکستانی تارکین وطن تیسرے بڑے گروہ کے طور پر نمایاں تھے۔آسٹریا میں سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے سنانے میں طویل عرصہ لگتا ہے۔

رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں پچیس ہزار سے زائد درخواستیں نمٹائی گئیں جن میں سے قریب تیرہ ہزار غیرملکیوں کو آسٹریا میں پناہ دے دی گئی جب کہ آٹھ ہزار سے زائد تارکین وطن کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔پانچ ہزار غیر ملکی ایسے بھی تھے جنہیں انسانی ہمدردی کی بنا پر آسٹریا میں عارضی قیام کی اجازت دے دی گئی۔