افغانستان میں فضائی حملوں میں 50 فیصد سے زائد شہری ہلاک

بین الاقوامی

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ نے کہاہے کہ افغان سکیورٹی فورسز اور امریکی افواج کے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت اس برس 50فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

شر کی تمام قوتوں کے خلاف دنیا متحد ہو جائے:سعودی عرب
غیر ملکی میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک سہ ماہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے کا سبب رواں برس اگست میں امریکی صدر ٹرمپ کی افغانستان میں نئی عسکری حکمت عملی متعارف کرنے کے بعد سے امریکی فوج کے حملوں کا زیادہ ہونا ہے۔اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اس سال ستمبر کے آخر تک کم سے کم 205 افغان شہری ہلاک جبکہ 261 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سویلین ہلاکتوں میں 38 فیصد بین الاقوامی افواج کے فضائی حملوں جبکہ باقی ماندہ افغان سکیورٹی فورسز کے حملوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 2 تہائی سے زائد خواتین اور بچے ہیں, مزید یہ کہ سن 2010 سے لے کر اب تک کسی بھی ایک مہینے میں ہونے والے حملوں کی نسبت اس سال ستمبر میں ہوئے فضائی حملے کہیں زیادہ ہیں جبکہ امریکی ملٹری کمانڈ کے ترجمان نے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیری نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت اپنے شہریوں کی ہلاکتوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔مجموعی طور پر اقوام متحدہ نے64فیصد شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار حکومت مخالف عسکریت پسند گروپوں یعنی طالبان اور جہادی گروپ اسلامک سٹیٹ کو اور20فیصد حکومت نواز فورسز کو قرار دیا ہے۔