شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے بعد ہمسایہ ممالک میں کیا خطرناک ترین چیز تیزی سے پھیلنے لگی؟ اب تک کی سب سے خطرناک خبر آگئی

بین الاقوامی

سیول(نیوز ڈیسک)شمالی کوریا کی جانب سے متعدد ایٹمی دھماکوں اور حال ہی میں کئے جانے والے ہائیڈروجن بم دھماکے کی خبروں نے تو پوری دنیا میں خوف ہراس پھیلا رکھا تھا لیکن ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کے لئے حقیقی اور انتہائی خطرناک نتائج بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ 

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریائی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے ملک میں 9مختلف مقامات پر زی نان ۔133 تابکار آئسوٹوپ کے نشانات ملے ہیں جبکہ ملک کے مشرقی ساحل پر قائم کئے گئے مراکز میں ان آئسوٹوپس کی مقدار چار گنا زیادہ پائی گئی ہے۔


دارالحکومت سیول میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے ایگزیکٹو کمشنر چوئی جونگ بائی کا کہنا تھا کہ تابکار مادے کی ماحول میں موجودگی سے یہ بتانا مشکل ہے کہ ہائیڈروجن بم کا دھماکہ کتنا طاقتور تھا لیکن یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ اس تابکار مادے کا اخراج شمالی کوریا کی جانب سے ہی ہوا ہے۔
جنوبی کوریا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زی نان ۔133 تابکار آئسوٹوپ ہے جو قدرتی طور پر نہیں پایا جاتا۔یہ تابکار مادہ ایٹمی تجربات کے دوران ہی پیدا ہوتا ہے اور انسانی صحت کے انتہائی خطرناک ہے۔ جنوبی کوریائی حکومت نے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے ضروری اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔