’ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ درست ہے کیونکہ۔۔۔‘ شامی صدر بشارالاسد نے ایسی بات کہہ دی جو اب تک کسی مغربی ملک کے سربراہ نے بھی نہ کہی تھی، دنیا کے مسلمان حیران پریشان رہ گئے

بین الاقوامی

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر لگائی گئی پابندی پر ساری دنیا نے لعن طعن کی، لیکن شام کے صدر بشارالاسد نے اس پابندی کی حمایت کا اعلان کر کے ہر کسی کو حیران کر دیا ہے۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق شامی صدر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دہشتگردوں پر پابندی لگائی گئی ہے نا کہ شام کے عام شہریوں پر۔ انہوں نے یہ متنازع بیان یورپ ون ریڈیو اور ٹی ایف ون ٹیلی ویژن کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”یہ پابندی ان دہشتگردوں پر لگائی گئی ہے جو پناہ گزینوں کے روپ میں مغربی ممالک میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ایسا ہوتا ہے ۔ یہ یورپ میں بھی ہوچکا ہے، خصوصاً جرمنی میں۔ میرا خیال ہے کہ ٹرمپ کا مقصد ایسے لوگوں کو روکنا ہے، نہ کہ عام شامی شہریوں کو۔“

’یہ کام کرنے کی ہمت بھی نہ کرنا ورنہ۔۔۔‘ چین نے بھارت کو اب تک کی سخت ترین وارننگ جاری کردی
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں پر پابندی گزشتہ ماہ لگائی گئی تھی۔ اس پابندی کو خود امریکیوں کی بھاری اکثریت نے تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ مغربی ممالک کے رہنماﺅں نے بھی اسے بے انصافی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں امریکی عدالت نے اسے معطل کردیا، اور تاحال یہ پابندی معطل ہے۔
شامی صدر کا بیان اس حوالے سے بھی حیرت انگیز ہے کہ شام کی جنگ میں امریکہ ان کا سب سے بڑا مخالف ہے، اور ان کا تختہ الٹنے کے درپے ہے۔ ایسی صورتحال میں ان کی جانب سے امریکی صدر کے اقدام کی حمایت میں بیان جاری کرنا معنی خیز قرار دیا جارہا ہے۔