داعش کی آمدنی ، زیر انتظام علاقے اور آبادی میں تقریباََایک تہائی کمی ، خود ساختہ خلافت لمبا عرصہ نہیں چلے گی :امریکی ادارہ

بین الاقوامی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )عراق اور شام میں برسرِ پیکار دہشتگرد تنظیم داعش کی مجموعی آمدنی تیل اور ٹیکس ریونیوکی مد میں 30فیصدنیچے گر گئی ہے ۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی تجزیاتی فرم آئی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایس (داعش)کی آمدنی اور زیر کنٹرول آبادی دونوں میں تقریباََ ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے ، آمدنی میں کمی لمبے عرصے تک داعش کی خود ساختہ خلافت کے خواب کو چکنا چور کر دے گی۔
روزنامہ پاکستان کی خبریں ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں۔
رواں سال مارچ میں داعش کی آمدنی 56ملین ڈالر تک نیچے جا گری جبکہ گزشتہ سال کے وسط کے مہینے میں آمدنی 80ملین ڈالر تھی۔امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فضائی حملوں کے نتیجے میں داعش کی پیداواری سہولیات متاثر ہوئیں جس کے باعث اس دورانیہ میں تیل کی یومیہ پیداوار 33000بیرل سے 21000بیرل تک جا پہنچی ۔
آئی ایچ ایس کے سینئر تجزیہ کار لوڈو یکو کارلینو کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ داعش تاحال خطے میںایک طاقت ہے تاہم اس کی آمدنی میں کمی ایک بڑا مخصوص ہندسہ ہے اور یہ اس دہشتگرد گروپ کے لئے اپنے زیر انتظام علاقوں میں لمبے عرصے تک اپنا اقتداربرقرار رکھنے کے چیلنج کو بڑھائے گا۔
روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاو¿ن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2014کے درمیان سے اب تک داعش کے زیر انتظام خطے میں 22فیصد کمی آئی ہے جبکہ اس دوران اس کے زیر انتظام آبادی 9ملین سے کم ہو کر 6ملین کے قریب پہنچ گئی ہے ۔ رپور ٹ میں مزید بتایا گیا کہ داعش کی آمدنی کا تقریباََ 50فیصد ٹیکسوں اور جائیدادوں کی قرقی و ضبطی سے حاصل ہوتاہے جبکہ 43فیصد تیل ،منشیات کی سمگلنگ ، بجلی کی فروخت اور خیرات و عطیات سے جمع ہوتا ہے ۔