بھارت کلبھوشن تک قونصلر رسائی حاصل کرکے اسے کیا پیغام پہنچانا چاہتا ہے؟ انتہائی خطرناک انکشاف منظرعام پر

بین الاقوامی

کراچی ، نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے حکم امتناعی لینے کے بعد بھارت کا اگلا اور اصل ہدف کل بھوشن تک قونصلر رسائی حاصل کرنا ہے تاہم پاکستان کی طرف سے کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینا بڑی حماقت ہوگی، کیونکہ اس کے نتیجے میں سارا کھیل پلٹ سکتا ہے،پاکستان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ بھارت کلبھوشن کو پٹی پڑھا کر کیس کمزور کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا، اگرچہ نئی دہلی سرکاریہ جواز گھڑرہی ہے کہ قونصلر رسائی کے ذریعے وہ معلوم کرنا چاہتی ہے کہ کلبھوشن یادیو کس حالت میں ہے اور یہ کہ اسے بنیادی انسانی حقوق دستیاب ہیں یا نہیں لیکن ذرائع کے بقول بھارت کے اصل عزائم اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان کو ملنے والی انفارمیشن کے مطابق بھارت چاہتا ہے کہ کلبھوشن سے کسی طرح یہ کہلوالیا جائے کہ اسے بلوچستان کے بجائے ایران سے اغوا کیا گیا تھا اور یہ کہ اس سے ویڈیو اعترافات بھی ڈنڈے کے زور پر کرائے گئے۔ ذرائع کے مطابق اگر بھارت کلبھوشن سے یہ کہلوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف پاکستان کا کیس کمزور ہوجائے گا بلکہ سارا کھیل پلٹ کر بھارت کے حق میں جاسکتا ہے۔

روزنامہ امت کے مطابق  لگ بھگ ایک برس قبل کلبھوشن کی گرفتاری سے لے کر آج تک بھارت اپنے جاسوس تک قونصلر رسائی کے لئے 16 کے قریب درخواستیں کرچکا ہے، لیکن پاکستان نے ہر بار یہ بھارتی مطالبہ مسترد کردیا۔ آخری بار اس سلسلے میں بھارت نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں درخواست دی تھی، تاہم بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمبئے والے کو دفتر خارجہ بلا کر سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے دوٹوک لہجے میں پاکستانی موقف کو دہراتے ہوئے آگاہ کیا کہ ایک جاسوس تک قونصلر رسائی نہیں دی جاسکتی ہے۔ بھارتی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن تک قونصلر رسائی کے لئے بھارتی بے چینی اور پاکستان کے مسلسل انکار کے اسباب سے آگاہ کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اس وقت کلبھوشن کو نہیں معلوم کہ بیرونی دنیا میں کیا ہورہا ہے، عالمی عدالت میں اس کے کیس کے حوالے سے کیا چل رہا ہے۔ کلبھوشن نے رضاکارانہ طور پر اپنے جرائم کے اعترافات کے بعد فوجی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزائے موت کو بھی تسلیم کرلیا ہے۔ ذرائع کے بقول یہی وجہ ہے کہ اس نے سزائے موت کے خلاف تاحال آرمی چیف سے اپیل بھی نہیں کی ہے، نہ ہی وہ یہ اپیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اپیل کی معیاد کا بھی آج آخری دن ہے ،10 اپریل کو کلبھوشن کو سزائے موت سنائی گئی تھی، جس کے بعد اس کے پاس 40 روز کے اندر آرمی چیف سے اپیل کا وقت تھا۔ ذرائع کے مطابق کیونکہ اپیل میں وہ مجرم ہوجاتاہے، جسے یہ شکایت ہو کہ اس کی جانب سے الزامات مسترد کئے جانے کے باوجود اسے سزا سنائی گئی جبکہ اس کے برعکس کلبھوشن نے اعتراف جرم کے ساتھ ساتھ پھانسی کی سزا کو بھی قبول کرلیا ہے۔ آرمی چیف سے اپیل کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق ہے اور صدر مملکت سے بھی وہ رحم کی اپیل کرسکتا ہے۔ یہ سارا عمل اگست تک جاکر مکمل ہوگا لیکن آرمی چیف سے اپیل نہ کرنے کی طرح کلبھوشن سپریم کورٹ میں جانے یا صدر مملکت سے رحم کی اپیل کرنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا۔

ذرائع کے مطابق یہی بات بھارت کے لئے پریشانی کا سبب ہے، بھارت کی خواہش ہے کہ قونصلر رسائی ملنے کی صورت میں وہ کلبھوشن کو یہ پیغام دے دے کہ اسے ہر صورت بچالیا جائے گا اور یہ کہ اسے بچانے کیلئے عالمی عدالت سے بھی رجوع کیا جاچکا ہے ۔ بس وہ ان ہدایات پرعمل کرے، جو بھارتی قونصلر کے ذریعے اس تک پہنچائی جائیں۔ ذرائع کے بقول ان بھارتی عزائم کی سن گن ملنے کے بعد ہی پاکستان کلبھوشن تک بھارت کو قونصلر رسائی دینے سے گریز کررہا ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں بھی یہی بے بنیاد موقف اپنایا ہے کہ کلبھوشن جاسوس نہیں بلکہ انڈین نیوی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ایران میں کاروبار کررہا تھا، جہاں سے اسے اغوا کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق قونصلر رسائی ملنے کی صورت میں کلبھوشن کو بچالینے کی آس دلا کر بھارت اس سے اپنی مرضی کا بیان لے لیتا ہے تو فوری طور پر نہ صرف دنیا بھر میں اس کا پراپیگنڈہ کرے گا بلکہ اس بیان کو عالمی عدالت انصاف میں بھی لے جائے گا، جہاں اس حوالے سے اب باقاعدہ کیس چلنا شروع ہوگیا ہے۔

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور رہائی کے مراحل سے آگاہ ایک اور ذریعے کے مطابق بالکل یہی کچھ اس وقت بھی ہوا تھا۔ جب تک ریمنڈ ڈیوس تک امریکہ کو قونصلر رسائی نہیں دی گئی تھی تو وہ طوطے کی طرح بول رہا تھا، تاہم قونصلر رسائی ملنے پر پہنچائے جانے والے خصوصی پیغام کے بعد وہ بالکل خاموش ہوگیا۔ اسے سمجھایا گیا تھا کہ وہ مزید ایک لفظ بھی زبان سے نہ نکالے، اسے بچالیا جائے گا۔ اسی نوعیت کا پیغام بھارت اپنے جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن یادیو تک پہنچانا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دوسری طرف   اسٹیبلشمنٹ قطعی نہیں چاہتی کہ کلبھوشن تک بھارت کو قونصلر رسائی دی جائے۔ اس حوالے سے اب تک کی جانے والی کوششوں کو ناکامی کا بنیادی سبب یہی ہے لیکن کلبھوشن تک قونصلر رسائی دینے یا نہ دینے کا حتمی فیصلہ بالآخر حکومت نے ہی کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں بیرونی دباﺅ متوقع ہے۔ یہ پریشر یورپی یونین کی طرف سے بھی آسکتا ہے جو پہلے ہی سزائے موت کے خلاف ہے اور یورپی یونین میں بھارتی لابی کا اثر و رسوخ پوشیدہ نہیں۔