سمندر کی تہہ میں 4 ہزار فٹ نیچے چین کو ایسی چیز مل گئی کہ پوری دنیا ہل کر رہ گئی، پوری دنیا کا مستقبل تبدیل ہوجائے گا کیونکہ۔۔۔

بین الاقوامی

بیجنگ (نیوز ڈیسک) ایک جانب باقی دنیا تیل اور گیس کے جھگڑوں میں الجھی ہے تو دوسری جانب چین نے خاموشی سے سمندر کی تہہ میں طویل تحقیق کے بعد ایسی چیز دریافت کر لی ہے کہ جس کا دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں نے بھی کبھی خواب تک نہیں دیکھا تھا۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق چینی سائنسدانوں گزشتہ دو دہائیوں سے بحیرہ جنوبی چین کی تہہ میں تحقیقاتی کام کر رہے تھے۔ اب ان سائنسدانوں نے سمندر کی تہہ میں 4ہزار فٹ کی گہرائی پر ’آتش گیر برف‘ دریافت کر لی ہے، جو اچھی کوالٹی کی قدرتی گیس سے بھی کئی گنا بہتر ایندھن ہے۔ سائنسدانوں نے آتش گیر برف سے حاصل ہونے والی گیس کو جلاکر توانائی حاصل کرنے کے تجربات بھی کامیابی سے مکمل کر لئے ہیں۔

برمودا ٹرائی اینگل نے ایک اور طیارے کو نشانہ بنا ڈالا، دو روز قبل اس کے اوپر غائب ہونے والا طیارہ اب بالآخر کہاں اور کس حالت میں ملا؟ جان کر آپ کو بھی بے حد گھبراہٹ ہوگی
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایک مکعب میٹر آتش گیر برف سے حاصل ہونے والی توانائی 164 مکعب میٹر قدرتی گیس سے حاصل ہونے والی توانائی کے برابر ہے۔ چین کے وزیر برائے لینڈ و ریسورسز جیانگ ڈامن نے گزشتہ روز اس کامیابی کا اعلان کیا۔


ابتدائی طور پر آتش گیر برف زو ہائی شہر سے 320 کلومیٹر کی دوری پر واقع سائٹ شین ہو سے نکالی جائے گی۔ یہ سائٹ بحیرہ جنوبی چین کی گہرائی میں واقع ہے۔ 28 مارچ کو آزمائشی کھدائی کا آغاز کیا گیا جس کے دوران 4153فٹ کی گہرائی پر 16ہزار مکعب میٹر آتش گیر برف نکالی گئی۔


آتش گیر برف قدرتی گیس کا ہائیڈریٹ ہے جو اس میں پائی جانے والی میتھین گیس کی وجہ سے جلتی ہے۔ سادہ الفاظ میں اسے ’جلنے والی برف‘ بھی کہا جا سکتا ہے، یعنی جس طرح لکڑی کو ایندھن کے لئے جلایا جا سکتا ہے اسی طرح اس برف کو بھی جلا کر بڑے پیمانے پر توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ چینی سائنسدانوں کو اس برف کی دریافت میں ابتدائی کامیابی 2007ءمیں ملی لیکن اسے نکالنے اور بطور ایندھن استعمال کرنے کے متعلق مزید تحقیق جاری تھیں جو حال ہی میں مکمل ہوئی ہیں۔


چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آگش گیر برف مستقبل کا ایندھن ہے جو آنے والے دور میں تمام دنیا کی توانائی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا ہے کہ آتش گیر برف کے مجموعی ذخائر دنیا میں پائے جانے والے کوئلے، تیل اور گیس کے کل ذخائر سے بھی دو گنا زیادہ ہیں۔