’اب کسی بھی لمحے یہ کام ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں پوری دنیا تباہ ہوجائے گی‘ عالمی ادارے نے اب تک کی سب سے خطرناک وارننگ جاری کردی

بین الاقوامی

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی طاقتوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کو ایٹمی جنگ کی طرف تو لیجا ہی رہی تھی لیکن اب اقوام متحدہ نے ایسی تشویشناک رپورٹ دے دی ہے جس نے پوری دنیا کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”دانستہ ایٹمی جنگ کا خدشہ اپنی جگہ، لیکن اس وقت دنیا کو حادثاتی ایٹمی جنگ کا خطرہ عروج کو پہنچ چکا ہے۔ تمام ایٹمی قوتوں نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ایسے خودکار نظام سے مربوط کر رکھا ہے جو بیرونی حملے کوبھانپتے ہوئے خودکار طریقے سے پیشگی حملہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ بیرونی حملے کی غلط فہمی کی وجہ سے یہ خودکار نظام غلطی سے ایٹمی حملہ کر سکتا ہے اور اس وقت اس غلطی کا امکان تاریخ میں اپنے عروج پر ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو دنیا میں قیامت برپا ہو جائے گی اور اس میں کسی انسان کی نہیں بلکہ انسان کے بنائے ہوئے اس خودکار نظام کی غلطی ہو گی جو ایٹمی ہتھیاروں سے منسلک کیا گیا ہے۔“

’اگر امریکہ نے یہ کام کرنے کی کوشش کی تو پوری دنیا میں ایک بھی شخص زندہ نہ بچے گا‘ معروف ترین سائنسدان نے اب تک کی سب سے خطرناک وارننگ جاری کردی، ٹرمپ کو واضح پیغام دے دیا
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ”اس خودکار نظام میں سنسرز، ڈرونز اور نیٹ ورک کو باہم مربوط کرکے ایٹمی ہتھیاروں سے جوڑا گیا ہے۔ یہ سنسر دشمن کی طرف سے حملے کا پتا چلانے اور سسٹم کو جوابی حملے کا حکم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان سنسرز میں کسی اور چیز کو دشمن کا ایٹمی میزائل حملہ سمجھ کر جوابی ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دینے کی غلطی کا امکان پیدائشی طور پر موجود ہے جس کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔جب دنیا کی قسمت ساتھ چھوڑ گئی تب یہ خودکار نظام ایٹم بم چلانے کی غلطی کریں گے اور ہر طرف تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔اس خودکار نظام پر انحصار دنیا کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔سرد جنگ کے دوران 1983ءمیں سوویت یونین کے ایٹمی ہتھیاروں کے سسٹم میں خرابی کے باعث غلطی سے ایٹمی حملہ ہوتے ہوتے بچا اور دنیا بال بال بڑی تباہی سے محفوظ رہی۔ جب تک دنیا میں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ان کے ارادتاً یا حادثاتی طور پر چلنے کے امکانات موجود رہیں گے۔“