افغان طالبان کا مزار شریف میں آرمی ہیڈ کوارٹر پر بڑا حملہ،50افراد ہلاک ،درجنوں زخمی

بین الاقوامی

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغان صوبے بلخ کے شہر مزار شریف میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے آرمی ہیڈ کوارٹر پر حملے کے نتیجے میں 50افراد ہلاک ہوگئے، گزشتہ دو ماہ کے دوران حکومت مخالف جنگجو گروپوں کی جانب سے آرمی کی تنصیبات پر یہ دوسرا براہ راست حملہ ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق بلخ میں واقع افغان نیشنل آرمی کی 209 شاہین کور کمانڈر ہیڈ کوارٹر پر 6 طالبان جنگجوﺅں کی جانب سے نماز جمعہ کے دوران حملہ کیا گیا ۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ جنگجوﺅں نے آرمی ہیڈ کوارٹر پر حملہ دوپہر ڈیڑھ بجے کیا جس کے بعد افغان آرمی کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی ۔ جنگجوﺅں اور افغان فوج میں یہ مقابلہ پانچ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا جس کے نتیجے میں تمام حملہ آور مارے گئے جبکہ افغان آرمی کے بھی 8 افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو دو فوجی گاڑیوں میں سوار ہو کر مزار شریف میں آرمی ہیڈ کوارٹر آئے ، طالبان جنگجوﺅں نے آرمی کی وردیاں بھی پہن رکھی تھیں۔ گاڑی میں سوار طالبان جنگجوﺅں نے گیٹ پر کھڑے سیکیورٹی اہلکاروں سے کہا کہ وہ زخمیوں کو لے کر آئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہے۔ بہانہ تراشے جانے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے فوجی وردیوں میں ملبوس طالبان جنگجوﺅں کو اندر جانے دیا, اندر جا کر طالبان جنگجوﺅں نے بھاری ہتھیاروں سے تباہی پھیلانا شروع کردی اور 50 کے قریب فوجی اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔
دوسری طرف افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان فوجی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے ان کے جنگجوﺅں نے بھاری ہتھیاروں سے آرمی ہیڈ کوارٹر میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہےاور 100 سے زائد اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے ۔زبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ  حملہ کرنے والے تمام افراد محفوظ ہیں اور اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے فدائین نے بڑا دھماکہ کیا اور بعد میں مرکز میں متعدد فدائین داخل ہوئے اور وہاں تعینات اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جس میں اب تک ابتدائی معلومات کے مطابق 100 سے زائد اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمیہو گئے ہیں ۔
واضح رہے کہ دو ماہ قبل حکومت مخالف جنگجوﺅں کی جانب سے کابل میں سردار محمد داﺅد ملٹری ہسپتال پر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔