طالبان کا چیک پوسٹوں پر حملہ، 8 افغان پولیس اہلکار ہلاک، کئی زخمی ،طالبان نے 17اہلکاروں کی ہلاکت اور 9کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کر دیا

بین الاقوامی

کابل(ڈیلی پاکستان آن لائن)افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں طالبان نے 3 سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں 8 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ضلع کا زمینی راستہ بھی کاٹ دیا گیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق صوبائی ترجمان ثناء اللہ تیمور کے مطابق حملہ گذشتہ روز کیا گیا تھا اور کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی مسلح چھڑپ کے بعد 3 پولیس افسران زخمی ہوئے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 8 حملہ آور بھی ہلاک ہوئے۔دوسری طرف طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 17افغان اہلکاروں کو ہلاک جبکہ 9پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر نے کے ساتھ بھاری اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا ہے ۔اس سے قبل افغان حکومت کے صوبائی ترجمان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد عسکریت پسند ضلع درقاد اور خواجہ بہاؤ الدین کے درمیان زمینی راستہ منقطع کرنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن حکومت نے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کیلئے مزید سیکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں روانہ کردیا۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے افغان طالبان نے مزار شریف میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر بڑا حملہ کرتے ہوئے 200سے زائد اہلکاروں کو ہلاک اور سینکڑوں کو زخمی کر دیا تھا جس کے بعد افغان آرمی چیف اور وزیر دفاعاپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے تھے ۔واضح رہے کہ رواں ماہ میں افغانستان میں طالبان حملوں میں شدت آ گئی ہے جبکہ گذشتہ روز بھی یک خود کش بمبار نے افغانستان کے مشرقی صوبے خوست میں دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے سیکیورٹی چیک پوسٹ کو زور دار دھماکے سے اڑا دیا تھا جس میں 4 افغان سیکیورٹی گارڈ ہلاک اور7اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل امریکی سیکرٹری دفاع نے روس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ روس امریکہ کی زیر نگرانی لڑنے والی افغان فورسز کے خلاف طالبان کو ہتھیار فراہم کررہا ہے۔انہوں نے طالبان کے خلاف افغان فورسز کو بھرپور مدد کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ 2017ء بھی ایک مشکل سال ہونے جارہا ہے،جبکہ ماسکو نے امریکی سیکرٹری دفاع کے الزام کو مسترد کر دیا تھا ۔