قومی اسمبلی میں کورم کی نشاندہی پر پہلی گنتی میں کورم پورا نہ نکلنے پر ڈپٹی سپیکر نے گھنٹیاں بجوا دیں

اسلام آباد

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی میں کورم کی نشاندہی پر پہلی گنتی میں کورم پورا نہ نکلنے پر ڈپٹی سپیکر نے ایوان میں گھنٹیاں بجوا دیں، وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ، وزیرمملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب سمیت دیگر وزراءکی دوڑیں لگ گئیں، لابیوں، چیمبرز اور کیفے ٹیریا میں خوش گپیوں میں مصروف ارکان کو فوری طور پر ایوان میں آنے کا کہا گیا، متعدد وزراءاور ارکان ہانپتے دوڑتے ایوان میں پہنچے، جس پر گھنٹیاں بجنے کے 5منٹ بعد گنتی پر کورم پورا نکلا، جس پر ایوان کی کارروائی جاری رکھی گئی۔ منگل کو اپوزیشن جماعتوں نے کاروائی کے بائیکاٹ کے بعد ایوان کو نہ چلنے دینے کی حکمت عملی کے تحت کورم کی نشاندہی کا فیصلہ کیا، اپوزیشن ارکان لابی میں بیٹھے حکومتی ارکان کی تعداد کم ہونے کا انتظار کرتے رہے، معمول کی کارروائی کے دورن جب ایوان میں حکومتی ارکان کی تعداد کم ہوئی تو اپوزیشن نے حکمت عملی کے تحت پہلے آزاد رکن جمشید دستی کو کورم کی نشاندہی کےلئے ایوان میں بھیجا جنہیں کورم کی نشاندہی کرنے کی کوشش پر وزیرمملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب ان کی نشست پر چلے گئے اور انہیں کورم پوائنٹ آﺅٹ نہ کرنے پر آمادہ کرلیا، جمشید دستی ناکام کوشش کے بعد ایوان سے باہر چلے گئے، جس پر اپوزیشن نے پی ٹی آئی کے رکن انجینئر حامد الحق کے کورم کی نشاندہی پر ایوان میں بھیجا، حامد الحق کی نشاندہی پر ڈپٹی سپیکر نے حکومت کی کشمیر پالیسی پر جاری بحث روک کر اسمبلی عملے کو ارکان کی گنتی کی ہدایت کی، گنتی مکمل ہونے پر حاضری پوری نہ نکلی تو ڈپٹی سپیکر نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے اندر موجود ارکان کےلئے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا، اس دوران وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ اور وزیرمملکت آفتاب شیخ سرگرم رہے اور وزراءاور ارکان کو واپس ایوان میں بلاتے رہے، گھنٹیاں بجنے کے دوران متعدد حکومتی ارکان ایوان میں واپس آ گئے، دوبارہ گنتی پر ڈپٹی سپیکر نے کورم پورا ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اجلاس کی کارروائی جاری رکھی۔