جنرل راحیل شریف سعودی عرب عمرہ کرنے گئے ، اسلامی افواج اتحاد کی سربراہی سے متعلق مجھے نہیں پتہ،ایف بی آر میرے ما تحت ہے :اسحاق ڈار

اسلام آباد

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سعودی عرب عرب عمرے پر گئے ہیں،وہ اسلامی افواج اتحاد کی سربراہی کریں گے یا نہیں مجھے اس بارے میں کوئی بھی اطلاعات نہیں ہیں۔جب وہ سروس میں تھے تو سعودی عرب کی خواہش تھی کہ وہ سربراہی کریں۔ان کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف اگر یہ عہدہ سنبھالیں گے تو وہ ملکی مفاد میں کوئی شرط بھی رکھیں گے،فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کی مشاورت اور قانون و آئین کے مطابق کیا جائے گا۔

فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس کل طلب

نجی ٹی وی سماءنیوز کے پروگرام"ندیم ملک لائیو"میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سربراہ پی ٹی آئی عمران خان نے توقسم کھائی ہوئی ہے کہ کسی کی بھی عزت نہیں کرنی،وہ ہر وقت فضولیات بکتے رہتے ہیں۔ مجھے ان کے اصلی کردار کا پتہ ہے،وہ ڈونیشنز کے پیسے کھاتے ہیں۔میں ان کی ذات پر کوئی بات نہیں کر سکتا لیکن اگر کی تو وہ عوام کو اپنی شکل نہیں دکھا سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ججز نظر بندی کیس میں نواز شریف سڑکوں پر تھے جبکہ عمران خان بھاگ گئے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف کاروائی نہیں ہو سکتی، انہوں نے پیسے اس وقت کے قانون کے مطابق کیش کروائے تھے۔قانون کاروائی کی اجازت نہیں دیتا، بینک کے زریعے بیرون ملک پیسے لے جانے پر پابندی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں دبئی جائیدادوں کے بارے میں تفصیلات نہیں بتا سکتااور نہ ہی قانون کسی پروگرام میں تفصیلات بتانے کی اجازت دیتا ہے ۔ 2016 کے کمپنیز آرڈیننس کو سینیٹ نے مسترد کردیا تھا۔

ہم دھرنا کلچر کا ساتھ نہیں دیتے،اس نے پاکستان کا مذاق اڑایا ہے:شاہ زین بگٹی

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اگر ملک میں کوئی چیز غلط ہوتی ہے تو اس کو ٹھیک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایف بی آر میرے ما تحت ہے ،میں اس بارے میں نہیں بتا سکتا۔نیب کے قانون کے لئے 20رکنی کمیٹی بیٹھ گئی ہے،میں اب قوانین تبدیل کرنے جا رہا ہوں۔۔سی پیک منصوبوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ چند ایک پراجیکٹ کے علاوہ باقی سب پرائیویٹ سیکٹر کے ہیں۔