حدیبیہ کیس میں صرف سلمان شہباز بچیں گے: شاہد مسعود

اسلام آباد

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حدیبیہ کیس میں سلمان شہباز کے علاوہ پورا شریف خاندان لپیٹ میں آئےگا۔ شہباز شریف اپنے اصل جارحانہ رنگ میں سامنے آئیں گے۔ متحدہ پاکستان اور پی ایس پی کے کئی افراد کے لندن سے رابطے ہیں۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ والے تو نیک مقصد کیلئے بیٹھے ہیں۔ بدمعاشیہ انہیں خلفشار پھیلانے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش میں ہے۔ تحریک لبیک کے رہنما ہوشیار رہیں۔روزنامہ خبریں کے مطابق یہ انکشافات سینئر تجزیہ کار شاہد مسعود نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ختم نبوت کے معاملہ پر راجہ ظفر الحق نے جو رپورٹ دی وہ حکومت دبا کے بیٹھی ہے اسے بھی پبلک کی جائے۔ آصف زرداری اندرخانے پوری طرح متحرک ہیں۔ خواجہ آصف نے بیان میں تسلیم کیا کہ وہ دبئی سے اقامہ پر 50 ہزار درہم 27 سال سے وصول کر رہے ہیں۔وزیر دفاع رہے اب وزیرخارجہ ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ قانون کے مطابق اقامہ لیا اور ڈکلیئر بھی کر رکھا تھا۔ ایک ایسا شخص جو اپنی جائیداد بیرون ممالک میں رکھے باہر کے ملکوں کا اقامہ رکھے وہ ملک کے اعلیٰ سطحی خارجہ پالیسی اجلاس میں بھی شرکت کرے۔ اگر قانون اس کی اجازت دیتا ہے تو ایسا قانون ضمیر میں جھونکنا چاہیے۔ ثابت ہو چکا ہے کہ بدمعاشیہ یہاں اپنے مفادات کیلئے قانون سازی کرتی ہے۔

اسحاق ڈار حدیبیہ کیس میں وعدہ معاف گواف بنے تو نیب قانون کے ملزم ملزم نہ رہے پھر وہ ایک بار عدالت میں استغاثہ کے گواہ کے طور پر بھی پیش ہوئے تھے۔ باقر نجفی رپورٹ بارے حکومتی رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ پبلک ہونے سے قومی سلامتی کو خطرہ ہو گا تو سمجھ نہ آتا تھا کہ رپورٹ کا قومی سلامتی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے اب حکمران جماعت کے اندر سے سننے میں آیا ہے کہ گولیاں چلانے کا حکم دینے والوں نے بعض مقدس شخصیات کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے جو سامنے آنے کی صورت میں لوگ نجانے ان لوگوں کا کیا حشر کریں بعض پولیس افسر عدالت میں ان کیمرا بیان دینے کو تیار ہیں۔

نواز شریف کو اس سٹیج تک پہنچانے میں کئی لوگوں میں ایک صاحب وہ بھی ہیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ایک شعلہ بیان خطاب کیا جسے سن کر دو افراد نے خودسوزی کر لی اور وہ صاحب خود لیگی گلی سے نکل گئے تھے۔ آج وہ نواز شریف کے ساتھ ہیں فاروق ستار کی پریس کانفرنس کو غور سے دیکھا جائے تو واضح ہو گا کہ ان پر الطاف حسین والی مکمل کیفیت طاری تھی الفاظ بھی ان کے استعمال کرتے رہے۔