”اگر میری نواز شریف سے ملاقات ہو گئی تو پھر۔۔۔“ حامد میر نے آصف علی زرداری کے بارے میں تہلکہ خیز انکشاف کر دیا، زرداری کے مطابق اگر ملاقات ہو گئی تو کیا ہو گا؟ ایسی بات کہہ دی کہ عمران خان بھی حیران رہ جائیں گے

اسلام آباد

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ نواز شریف مولانا فضل الرحمان کے ذریعے آصف علی زرداری کو بار بار ”ٹچ“ کر رہے ہیں مگر انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو بھی ملاقات کا وقت نہیں دیا اور ان کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال میں نواز شریف سے ملاقات ہو گئی تو جمہوریت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”آج اتنا مزہ آیا، اتنا مزہ آیا کہ۔۔۔“ لاہور قلندرز کا کٹ بیگ اٹھائے لاہور آنے والے گرانٹ ایلیٹ نے ایک مرتبہ پھر پاکستانیوں کے دل جیت لئے، کل انہیں سب سے زیادہ مزہ کب آیا؟ تصویر دیکھ کر آپ کے قہقہے چھوٹ جائیں گے
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ”نواز شریف کی اس وقت آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے کی بہت کوشش ہے اور وہ مولانا فضل الرحمان کے ذریعے آصف علی زرداری کو بار بار ”ٹچ“ کر رہے ہیں مگر وہ مولانا فضل الرحمان کو بھی ملاقات کا وقت نہیں دے رہے اور کہہ رہے ہیں کہ اگر تم آﺅ گے تو خبر بن جائے گی۔ “
اس موقع پر پروگرام میں شریک دوسرے سینئر صحافی عارف نظامی نے کہا کہ مولانا کے ایک پیغام رساں بھی ہیں جو آصف علی زرداری کیساتھ رابطے میں رہتے ہیں، آصف علی زرداری اس سے بھی ملاقات نہیں کر رہے اور نہ ہی ان کے فون کا جواب دے رہے ہیں اور یہ انہوں نے مجھے خود بتایا ہے۔
حامد میر نے ایک مرتبہ پھر اپنی بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ ”آصف علی زرداری کے دوستوں میں ایک آدمی ہے جو مستقل طور پر مولانا فضل الرحمان کے رابطے میں رہتے ہیں اسے بھی آصف علی زرداری نے منع کر دیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کافون سننا بند کر دو ۔“
حامد میر نے کہا کہ ”میں نے آصف علی زرداری سے پوچھا کہ آپ مولانا فضل الرحمان سے کیوں نہیں مل رہے، وہ آپ کے دوست ہیں، ان کیساتھ ملاقات تو کریں، یہ ضروری تو نہیں کہ وہ جو بھی آپ سے کہیں، وہ آپ مان لیں۔ تو آصف علی زرداری نے کہا کہ نہیں، ملاقات کی تو میڈیا اس بات کا بتنگڑ بنا دے گا۔ آصف علی زرداری کا خیال ہے کہ اس صورتحال میں میں الیکشن 2018ءسے پہلے اگر نواز شریف سے ملاقات کی اور کسی بھی مسئلے پر تعاون کیا خواہ وہ اصولی ہو یا غیر اصولی، تو اس سے پاکستان کے جمہوری نظام کو بہت نقصان پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”2018ءاور 2019ءمیں یہ ٹیم پاکستان آئے گی“ صرف ایک میچ سے نحوست کے بادل چھٹ گئے، نجم سیٹھی نے دوسرے میچ سے پہلے ہی پاکستانیوں کو سب سے بڑی خوشخبری آ گئی
یہ کیسی عجیب و غریب بات ہے کہ ایک زمانے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مل کر جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش کی اور اب پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ اس موقع پر اگر مسلم لیگ (ن) کے قریب گئے تو ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ جمہوری نظام کی بساط لپیٹی جا سکتی ہے،لہٰذا جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں (ن) لیگ سے دور دور رہو تو بہتر ہے، اس سے نواز شریف کو خیال کرنا چاہئے کہ انہوں نے اپنا امیج کہاں پر پہنچا دیا ہے۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔