نیب کیس بناتا تو سپریم کورٹ آنے کی ضرورت نہ ہوتی ،شریف خاندان کے خلاف 18سال سے کیس التوار میں پڑے تھے :فواد چودھری

اسلام آباد

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا ہے کہ نیب کیس بناتا تو سپریم کورٹ آنے کی ضرورت نہیں ہوتی ،18,18سال سے شریف خاندان کے خلاف کیس التوا میں پڑے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے وکیل نے سپریم کورٹ نے کہا یہ کیس نیب کو دے دیں تو وہ خود ہی فیصلہ کر لیں گے ،اگر نیب اتنا ہی اچھا ہے تو سپریم کورٹ کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آتی ،اگر نیب خود ریفرنس بناتا تو سپریم کورٹ کے پاس آنے کی ضرورت نہیں تھی ۔میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کیس 17سال سے التوا کا شکار ہے ،نیب کے پراسیکیورٹر نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کے 10دن میں ریفرنس تیار کرلیں گے ،آج مہینوں کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا ۔ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ پاکستانی لوگوں کو قانونی معاملات میں دلچسپی نہیں ،ہماری دلچسپی اس بات میں ہے کہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ میں گئے ہوئے 3ہزار کروڑ پاکستانی روپے واپس آنے چاہئیں ،شریف فیملی نے ایک صوبائی بجٹ کے برابر لوٹ مار کی ،جنہوں نے لوٹ مار کی انہیں سزاملنی چاہیے ،ان کا جاتی عمرہ سے اڈیالہ جیل تک سفر ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ نیب کے چیئر مین ریٹائر ہو رہے ہیں ،یہ وقت ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر نیب کے قوانین بناکر ادارے کی مضبوط کرے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرف کو عدالت میں بلانے کے لیے ن لیگ بہت باتیں کرتی تھی ،اب 19تاریخ کو عدالت نے نواز شریف کو طلب کیا ہے ،دیکھتے ہیں وہ آتے ہیں یا نہیں ۔
مزید خبریں :تسلیم کرتے ہیں نواز شریف تنخواہ کے اہل تھے،مگرکبھی وصول نہیں کی، خواجہ حارث کا بڑا اعتراف