عائشہ گلالئی کے بعد تحریک انصاف کی عائشہ نذیر بھی پارٹی چھوڑ رہی ہیں؟ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا

اسلام آباد

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملکی سیاست میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہیں ، سیاست دان اپنے بیانات اور احساسات ان سائٹس کے ذریعے اپنے ووٹرز اور پاکستانی عوام تک پہنچاتے ہیں،لیکن اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹس بھی ان ویب سائٹس کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے جہاں اپنی پارٹی کی سرگرمیوں کو اجاگر کرتے ہیں وہیں اپنے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کے لئے اسے استعمال کرتے ہیں۔تحریک انصاف کی خاتون رہنما عائشہ نذیر نے بھی تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ”ٹوئٹر“ پر یہ کہتے ہوئے کیا کہ پی ٹی آئی مردوں کی جماعت ہے اور انہوں نے اپنے والد کے حکم پر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام انتہائی تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے: ڈاکٹر ظفر معین نصر
سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ”ٹوئٹر “ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے تحریک انصاف کی خاتون رہنماءعائشہ نذیر کا کہنا تھا کہ مجھے تحریک انصاف میں رہ کر اپنا سیاسی کریر نہیں تباہ کرنا، اس پارٹی کے ساتھ وابستہ ہونا چاہتی ہوں جہاں عورتوں کو اچھے مواقع ملیں۔تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کرتی ہوں، صرف والد کے کہنے پر عمران خان کی پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔ تحریک انصاف مردوں کی پارٹی ہے۔

لیکن اس سے تھوڑی دیر بعد عائشہ نذیر ہی کے نام سے ایک اور ٹوئٹر اکاﺅنٹ نے ان کے تحریک انصاف چھوڑنے والے ٹوئٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عائشہ نذیر جٹ کے نام سے جو ٹوئٹ کیا گیا ہے وہ جھوٹا ہے اوریہ گندی سیاست ہے جو کہ سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے ۔ اس طرح کے جعلی اکاﺅنٹس سائبر کرائم میں آتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے ۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ عائشہ نذیر کے نام سے قائم دو ٹوئیٹر ہینڈلز میں سے اصلی اور جعلی ٹوئٹر ہینڈل کونساہے۔