آئی ایس آئی پروفیشنل سے زیادہ سیاسی بن چکی تھی ،ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے لیک شدہ حصے کے بارے میں سینئر صحافی کا انکشاف

اسلام آباد

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی عارف نظامی نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ حسین حقانی نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے مضمون کے ذریعے پاکستان کے کچھ زخم ہر ے کردئیے ہیں۔آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ دنیا کو انتہائی مطلوب اسامہ بن لادن 8برس تک کاکول اکیڈمی سے چند فرلانگ کے فاصلے پر کیسے چھپا بیٹھا رہا اور ہمارے انٹیلی جنس اداروں کو اس بات کی کانو ں کان خبر تک نہیں تھی ۔نیز یہ کہ 2مئی 2011کو اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن ہمارے انٹیلی جنس اداروں ،عسکری اداروں اور حکومت کی آشیر باد سے ہوا یا واقعی ہم اس آپریشن سے بے خبر تھے ۔اگر بے خبر تھے تو یہ سراسر نا اہلی تھی اور اگر ہمیں علم تھا تو قوم سے اب تک حقائق کیوں چھپائے جا رہے ہیں ۔اس حوالے سے سپریم کورٹ کے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں کمیشن بھی تشکیل دیا گیا ،اس کمیشن کی رپورٹ بھی پاکستان میں بننے والے دوسرے کمیشنز کی رپورٹس کی طرح طاق نسیاں میں کیو ں پڑی ہے ،اسے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا ۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے ایک لیک شدہ حصے کے مطابق اس وقت کی آئی ایس آئی پروفیشنل سے زیادہ سیاسی بن چکی تھی ۔اصولی طور پر تو سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا سے پوچھنا چاہیے کہ یہ سب کچھ ان کے دور میں ہوا اس وقت کے واقعات کی حقیقت کیا ہے ؟۔

ایک ’برگر لڑکی‘ کیلئے اکیلے سفر کرنا کتنا مشکل ہے اور گھر سے نکلتے ہوئے اس کی والدہ نے اسے کونسی تین نصیحتیں کیں؟ اس لڑکی نے سب کچھ بتا دیا، واضح پیغام بھی دیدیا