کویت نے بائیو ڈیزل پلانٹ لگانے کے لئے پنجاب فوڈ اتھارٹی سے مدد طلب کرلی

لاہور

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبے میں شہریوں کومتوازن اور صحت بخش خوراک فراہم کرنے کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کی نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرونی دنیا میں بھی اعتراف کیا جا رہا ہے، ان خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے قطر نے استعمال شدہ تیل سے بائیو ڈیزل تیار کرنے کے منصوبے کے لئے پاکستان سے مدد طلب کر لی ہے۔

حسین نواز کی تصویر لیک کرنے والا کون ہے ؟اٹارنی جنرل کو نام موصول
تفصیلات کے مطابق کویت واٹر ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد الکوفاہی نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنر ل ڈاکٹر نور الامین مینگل کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی سے کویت کے اندر استعمال شدہ کھانے کے تیل سے بائیو ڈیزل تیارکرنے کے لئے ایک بڑا پلانٹ لگانے کے لئے مدد طلب کر لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایف اے کویت کو بائیو ڈیزل کی تیاری کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار، سرمایہ کاروں کی شرکت ، نگرانی، منصوبہ بندی میں معاونت کرے تاکہ ایک بڑے پلانٹ کی تنصیب کر سکیں۔


اس وقت دنیا بھرمیں توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش جاری ہے جس کے تحت بائیو ڈیزل، بائیو گیس، ایتھانول، میتھانول اور دیگر سستے و قابل عمل ذرائع پر تیزی سے کام جاری ہے۔ پاکستان میں بھی بائیو فیول کی صنعت کو فروغ دیکر ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔اسی حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لاہور ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ایک پالیسی بنائی جس کے تحت استعمال شدہ کوکنگ آئل دوبارہ استعمال کرنے کی بجائے بائیو ڈیزل کمپنیوں کو بیچا جائے تاکہ ملک میں بائیو ڈیزل کی تیاری کی جا سکے۔ گذشتہ ماہ11کمپنیز نے بائیو ڈیزل آئل بنانے کے لئے فوڈ اتھارٹی کو درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
واضح رہے کہ استعمال شدہ خوردنی تیل سے انتہائی کم لاگت میں بائیو ڈیزل تیار کیا جا سکتا ہے جو نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ ہر سال اربوں ڈالر کی بچت بھی فراہم کرتا ہے۔ اس وقت برازیل میں بائیو فیول کی صنعت سب سے زیادہ منظم ہے اور ملکی معیشت میں قابل قدر حصہ شامل کر رہی ہے جو پاکستان کیلئے ایک قابل تقلید مثال ہے۔