جس ملک میں انصاف کرنے پر عدالتوں کو روزانہ گالیاں دی جارہی ہوں وہاں باقی کیا رہ جاتاہے،نیب کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس

لاہور

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور مسٹر جسٹس سرفراز احمد ڈوگر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈی ایچ اے سٹی سکینڈل کے ملزم حماد ارشدکی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران اس قانونی نکتہ پرمعاونت طلب کرلی ہے کہ احتساب عدالت میں ریفرنس دائر ہونے کے بعد نیب کسی ملزم کو گرفتار کرسکتا ہے یا نہیں؟ دوران سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ جہاں اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں نامناسب زبان استعمال ہو اس ملک میں باقی کیا رہ جاتاہے،ملک میں انصاف کرنے پر روزانہ عدالتوں کو گالیاں دی جارہی ہیں ،دیانتدار افسروں کو کھڈے لائن اور نااہل افراد کو اعلیٰ عہدوں پر لگایا گیا ہے ۔

شریف خاندان کے کیسز کا فیصلہ حقائق پر مبنی ہے،عدالتوں سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے ،ن لیگ کا دو دھڑوں میں بنٹنے کا تاثر درست نہیں، آزاد ملک اپنے علاقے میں کسی کو جوائنٹ آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتا:چودھری نثار

ملک میں اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ لوگ ایک نمبر کام کے بھی پیسے لیتے ہیںجبکہ دونمبر کام کرنے والوں کے ہاتھ چومے جاتے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیا رکیا کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد ان کے موکل حماد ارشد کو گرفتار کیا گیا جبکہ نیب کو اس گرفتاری کا اختیار نہیں تھا ،وکیل نے اس سلسلے میں شریف فیملی کے خلاف احتساب ریفرنسز کا بھی حوالہ دیا ،وکیل نے مزید موقف اختیار کیا کہ نیب نے اختیارات کے دوہرے معیار قائم کررکھے ہیں ،پنجاب میں نیب ریفرنس دائر ہونے کے بعدچھوٹے ملزم کوتو گرفتار کر لیا جاتا ہے مگر بڑے بڑے ملزمان کو نیب ہاتھ بھی نہیں لگاتا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں ہر طرف کرپشن کا بازار گرم ہے ،روس نااہل افراد کے عہدوں پر تعیناتی سے تباہ ہوا،صاف پانی کمپنی کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئیں، حالت یہ ہے کہ 8 ارب روپے کے پراجیکٹ میں بھرتیوں کے انٹرویو دبئی میں ہوتے ہیں ،سکولوں اور اسپتالوں کا حال نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جس کہ وجہ سے نابینا افراد بھی سڑکوں پر ہیں،جنوبی پنجاب میں پینے کا صاف پانی تک نہیں میسر نہیں جہاں انسان اور جانور ایک ساتھ پانی پیتے ہیں ،عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ احتساب ریفرنس دائر ہونے کے بعد نیب ملزم کی گرفتاری کے لئے کس قانون کے تحت کارروائی کرتا ہے ؟ سرکاری وکیل نے جواب کے لئے عدالت سے مہلت طلب کی جس پر کیس کی مزیدسماعت25 اکتوبر پر ملتوی کر دی گئی۔