لاہور ہائیکورٹ نے نادہندگی کی بنا پر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کو نیلام کرنے کا حکم دے دیا

لاہور

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے نادہندگی کی بنا پر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کو نیلام کرنے کا حکم دیتے ہوئے نیلامی کے لئے 11نومبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے ۔مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے یہ حکم پنجاب بینک کی درخواست پر جاری کیا۔بینک کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے انسٹیٹیوٹ آف لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ کے نام پر بنک سے قرض حاصل کیا اور اس کے لئے رحیم چوک یونیورسٹی روڈ ، 2سی جوہر ٹاﺅن کی 124کنال 17مرلے پر مشتمل یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی جائیداد رہن رکھوائی گئی، بینک کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قرض کی عدم ادائیگی پر انسٹیوٹ آف لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ کو 2011ءمیں ڈیفالٹر قرار دیا گیا جبکہ قرض کی عدم ادائیگی پر ڈاکٹر حسن صہیب مراد کے خلاف 2016ءسے 44کروڑ 70 لاکھ 16ہزار کی ڈگری جاری ہو چکی ہے، بینک کے وکیل نے مزید موقف اختیار کیا کہ عدالتی ڈگری کے بعد انسٹیٹیوٹ آف لیڈر شپ اینڈ ٹیکنالوجی کے مالک نے عدالتی ڈگری کے بعدبینک کو4کروڑ 28 لاکھ 91ہزار روپے ادا کر دیئے ہیں مگر ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے ڈگری کی بقایا رقم 40کروڑ 41لاکھ 24ہزار روپے ادا نہیں کی ،رقم کی ریکوری کے لئے نادہندہ کی ملکیت رحیم چوک یونیورسٹی روڈ 2سی جوہر ٹاﺅن کی 124کنال 17مرلے پر مشتمل یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کونیلام کرنے کا حکم دیا جائے، عدالتی حکم پر کورٹ آکشنر ز احمد عبداللہ ڈوگر ایڈووکیٹ اور واصف مجید ایڈووکیٹ نے ڈیفالٹر کی جائیداد نیلامی کا شیڈول پیش کیا جس پر عدالت نے فریقین کے دلائل اور اعتراضات سننے کے بعد یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کو نیلام کرنے کا حکم دیتے ہوئے نیلامی کی تاریخ مقررکردی ہے ۔