چھوٹے لوگوں کو مچلکے داخل کرنے پر بھی گرفتار کرلیا جاتا ہے ،بڑے لوگوں پر نیب ہاتھ نہیں ڈالتا،ہائی کورٹ

لاہور

لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے 5لاکھ روپے کی کرپشن پر نیب کی طرف سے گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مچلکے جمع ہونے کے باوجود ملزم کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ بڑے کیسوں میں ملوث لوگوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ نیب کے وکیل نے عدالت میں اعتراف کیا کہ نیب کے تمام ملزمان کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جاتا، نئے چیئرمین نیب کی تقرری ہوچکی وہ اس حوالے سے پالیسی مرتب کریں گے ۔

ملزم اشرف جاوید کی درخواست ضمانت میںموقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ اوکاڑہ ڈاک خانے میں کاونٹر کلرک تھا، اس پر 5لاکھ روپے کے 11جعلی فیکس منی آرڈر پر ادائیگی کا الزام لگا کر ریفرنس دائر کیاگیا،اس کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے اور اس نے اس سلسلے میں دو دو لاکھ کے مچلکے جمع کروادیئے ،اس کے باوجود اسے گرفتار کر لیا گیا،درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کو گواہان نے بھی شناخت نہیں کیا، عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا نیب بڑے ملزموں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرتی ہے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراف کیا کہ نیب میں تمام ملزمان کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیا جاتا، نئے چیئرمین نیب نے چارج سنبھال لیا ہے اور وہ اس معاملے پر نئی پالیسی بنائیں گے، عدالت نے دلائل سننے کے بعد اشرف جاوید کی 5،5لاکھ کے مچلکوں کے ضمانت منظور کر لی۔