ہر ادارہ ایک خاص ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتا ہے، اداروں میں شفافیت سے قومیں بنتی ہیں ،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

لاہور

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سیدمنصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ملک اداروں کے مجموعے کا نام ہوتا ہے اور ہر ادارہ ایک خاص ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتا ہے.

نواز شریف کی ریلی میں زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکار کی داد حوصلہ افزائی

اداروں میں شفافیت سے قومیں ترقی کی راہ پر گا مزن ہوتی ہیں، لاہور ہائی کورٹ میں جو بھی کیا میرٹ کی بنیاد پر کیا، ایک بھی بھرتی میرٹ کے برخلاف نہیں ہونے دی، شاید اسی بات پر پورا پاکستان مجھ سے ناراض ہے کہ میں سفارش نہیں سنتا، ان کا کہنا تھا کہ میرٹ پر چلنے سے زندگی میں مشکلات ضرور آتی ہیں لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا، اللہ نے جو منسب آپ کی قسمت میں لکھ دیا ہے وہ آپ کو مل کر رہے گا۔ چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نور سٹوڈنٹ لیڈر شپ پروگرام کے زیر اہتمام "ہمارا پاکستان" کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے، تقریب میں فاطمہ میموریل ہسپتال، نور انٹرنیشنل یونیورسٹی کالج آف میڈیسن اور ڈینٹسٹری، کالج آف الائیڈ ہیلتھ سائینسز اور چلڈرن آف نور کمیونٹی آوٹ ریچ پروگرام کے طلباءو طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان سے بہت پیار ہے، ان کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے دنیا کے بہت سارے ملک دیکھے ہیں لیکن پاکستان سے خوبصورت کوئی ملک نہیں ہے۔ فرد کی پہلی درسگاہ اور ادارہ ماں کی گود ہے اسکے بعد فیملی اور سکول اس کی نشوونما اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ نور پروگرام کے بچوں عدالت عالیہ لاہور میں مدعو کرتے ہیں کہ وہ آئیں اور دیکھیں کہ ہمارا عدالتی نظام کیسے تبدیل ہو رہا ہے، عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں۔ جج بننا اللہ کا خاص انعام ہے، جس میں لوگوں کی خدمت کرنے کا موقع ملتا ہے، انہوں نے شرکاءسے کہ ہمیں اپنی زندگی سے منفی خیالات کو نکالنا ہے، ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے خدا پر بھروسہ رکھتے ہوئے محنت کرنی ہے اور شانہ بشانہ اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے، اللہ پر ایمان ہماری جدوجہد کا لازمی حصہ ہے، جو بھی کرنا ہے اللہ رب العزت پر یقین محکم کے ساتھ کریں کبھی ناکام نہیں ہونگے، انہوں نے کہا کہ وہ سی ایس ایس آفیسر بننا چاہتے تھے کہ لیکن کسی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا مگر محنت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور آپ کے سامنے کھڑا ہوں، یہ سب مسلسل محنت اور اللہ تعالی پر کامل یقین کا انعام ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نے خود سے عہد کرنا ہے کہ اپنے دلوں سے نفرت کو ختم کر کے محبت، پیار اور مدد کے جذبے کو فروغ دینا ہے، زندگی پیسہ کمانے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کے کام آنے کا نام ہے، حقیقی خوشی دوسروں کی مدد کرنے سے ہی میسر آتی ہے۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ موسمی تغیر پوری دنیا کے لئے ایک چیلنج بن چکا ہے، ہمیں تغیراتی تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نیچر کی حفاظت کرنی ہے اور ماحول کو آنے والی نسلوں کےلئے محفوظ بنانا ہے۔ چیف جسٹس نے تقریب کے اختتام پر بچوں میں اسناد تقسیم کیں اور پاکستان کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد بھی دی۔