شدت پسند اور دہشت پسند گروہوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،نائن الیون کے بعد اسلام اور مسلمان مسلسل نشانے پر ہیں:سینیٹر ساجد میر

لاہور

ہیلی فیکس(ڈیلی پاکستان آن لائن)مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ  سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ نائن الیون کے واقع کے بعد اسلام اور مسلمان مسلسل نشانے پر ہیں، ایک سازش کے تحت انتہاپسندی اور دہشت گردی کا لیبل اسلام پر تھوپا گیا،  شدت پسند اور دہشت پسند گروہوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،یہ اسلام دشمن قوتوں کے آلہ کار ہیں جن کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے، اسلام اعتدال اور امن کا مذہب ہے جس کی تعلیمات انسانیت کی محافظ ہیں، اسلام فوبیا نے دنیائے اسلام کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، جس کے تحت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی زہریلا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، عرب ممالک سمیت تمام مسلمانوں کو متحد ہوکر طاغوت کا مقابلہ کرنا ہو گا،  فرقہ وارانہ اور سیاسی مفادات کے تحت مسلم ممالک کی تقسیم کا فائدہ اغیار اٹھا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے زیر اہتمام  ہیلی فیکس میں سالانہ ’’ عالمی اسلامی دعوت کانفرنس‘‘خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ساجد کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی ایک بری بلا اور معیوب چیز ہے ، اسلام نے ہر اعتبار سے اعتدال اور توازن کا سبق دیا، اسلام کا ہر حکم رحمت اور برکت ہے، غیر مسلموں نے چاروں طرف سے یلغار کر رکھی ہے‘ اس کے اثرات یورپ‘ امریکہ‘ چین‘ برما‘ انڈیا وغیرہ میں دیکھے جا سکتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی زہریلا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، ’’اسلاموفوبیا‘‘ یعنی اسلام کی شبیہ کو بگاڑ کر خوفناک انداز میں ایسے پیش کیا جا رہا ہے کہ اس کا نام سنتے ہی خوف اور وحشت محسوس ہونے لگے، اس میں میڈیا کا نہایت غیر ذمہ دارانہ رول ہے کہ ہر وہ خبر جس سے اسلام اور مسلمانوں کی منفی تصویر ابھرے‘ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام مسلمانوں کو دہشت گرد‘ خونخوار اور ضرر رساں طبقہ کے طور پر دیکھنے لگے‘ جبکہ اس سے کہیں زیادہ بھیانک واقعات غیر مسلم افراد اور حکومتوں کی جانب سے پیش آتے رہے اور آ رہے ہیں، لیکن یا تو ان کی رپورٹنگ ہی نہیں ہوتی یا پھر اسے بہت ہلکا کر کے یا مذہب کا نام لیے بغیر ذکر کیا جاتا ہے، یہ رپورٹنگ کا دوہرا اور غلط معیار ہے جس کا عام طور پر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے،  نائن الیون کے بعد سے یورپ میں اسلام مخالف اقدامات تسلسل سے جاری ہیں،  نفرت انگیز تقاریر ہوں، حجاب کے خلاف مہم،  مساجد پر حملے،منظم جرائم ہوں یا اسلام مخالف افراد کی حوصلہ افزائی ہو ، اسلامی تعلیمات اور مقدس ہستیوں کی توہین جیسے اقدامات سے اشتعال انگیزی کو بھی فروغ دیا گیا۔سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی کی بجائے ملالہ یوسف زئی کو نوبل پرائز دیا گیا، ان حالات میں برطانوی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ بھی کریں اور سیاسی وتعلیمی اور معاشی میدان میں آگے بڑھیں،  انفرادی اور اجتماعی کوششوں سے ہمیشہ مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں،  مسلمان نوجوان نسل تعلیمی میدان میں آگے بڑھے اور اپنے کردار سے اسلام کا تعارف کروائے، سیاسی بیداری بھی حالات کی اہم ضرورت ہے۔

ممتاز سکالر اور پنجاب یونیورسٹی کے  پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلاموفوبیا کی اصطلاح کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل میں ہوا،  اس کی زیادہ ترویج بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی میں ہونا شروع ہوئی، فوبیا کسی بھی چیز سے ایک انجانے خوف اور نفرت کو کہا جاتا ہے اور اس کا مطلب اسلام اور مسلمانوں سے خوف کھانا اور نفرت رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ  نبی کریم ﷺکی پر امن بقائے باہمی کی پالیسی کے باوجود آپ اور آپ کے صحابہؓ سے اس دور کے غیر مسلم خوف میں مبتلا تھے اس اعتبار سے غیر مسلموں کا یہ فوبیا کوئی نئی بات نہیں،  موجودہ دور میں مسلمانوں کو مضبوط دینی کردار اپنانے کی ضرورت ہے تا کہ پوری دنیا کو معلوم ہو جائے کہ اسلام صرف مسلمانوں کا دین نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔

متحدہ امارات کے ممتاز عالم شیخ ظفر الحسن مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات مسلم ہو یا غیر مسلم تمام انسانوں کے لیے سراپا رحمت ہے کیونکہ یہ دین تمام انسانیت کے لیے باعث امن وسکون ہے جس میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بھی خاص طور پر تعلیم دی گئی اور نظام عدل کے ذریعہ ہر انسان کو اس کا حق دیا گیا۔ نبی کریم ﷺنے اپنی زندگی مقدسہ میں ہمیشہ دوسروں کو معاف کرنے کا رویہ اپنایا اور جانی دشمنوں کو بھی عفو وکرم سے نوازا۔ شیخ ظفر الحسن مدنی نے سیرت طیبہ کی روشنی میں ایسے واقعات کا ذکر کیا جس سے انسانیت نے آپﷺ  کے رحمت للعالمین ہونے کے عملی ثبوت کا مشاہدہ کیا،  غیر مسلموں کے لیے نبی رحمت ﷺ  کی زندگی اسلام کے اصل پیغام کو سمجھنے کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

اسلامی شریعت کونسل کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صہیب حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی فضیلت کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ مسلمانوں کا قبلہ اول رہا ہے، نبی کریم ﷺ  راتوں رات وہاں لیجائے گئے اور  کلام الٰہی میں اس کے چاروں طرف برکتوں کی موجودگی کا اشارہ کیا گیا ہے، یہ وہ مسجد ہے کہ پچھلے پچاس سالوں میں اسرائیلی بربریت کی بناء پر پہلی مرتبہ وہاں نماز جمعہ کی اجازت نہ دی گئی، مسجد اقصیٰ میں پے درپے ایسے واقعات کا ظہور اس صیہونی تحریک کے ایجنڈے کا ایک حصہ ہے جو انیسویں صدی کے آخر میں ظہور پذیر ہوئی، جو مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمان کی تعمیر چاہتے ہیں حالانکہ محققین کے نزدیک ہیکل سلیمانی کا وجود تک مشکوک ہے،  اب کئی سالوں سے اسرائیلی حکومت مسجد اقصیٰ کے نیچے سرنگیں کھود رہی ہے تا کہ اس کی بنیادیں کمزور پڑ جائیں اور مسجد کے گرتے ہی ہیکل بنانے کی راہ آسان ہو جائے اور یہ تمام مسلمانانِ عالم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

ممتاز صحافی ودانشور رانا شفیق خاں پسروری نے خطاب کرتے ہوئے خلفائے راشدینؓ  کی زندگیوں کو تمام امت کے لیے نمونہ قرار دیا جنہوں نے قرآن وسنت کو قولی وعملی طور پر اپنا کر مملکت اسلامیہ میں نافذ کیا،  خلفائے راشدینؓ رشد وہدایت کے امام تھے جن کی صداقت کی گواہی قرآن کئی مقامات پر دیتا ہے۔

ممتاز محقق پروفیسر محمد یحییٰ نے خطاب کرتے ہوئے قرآن پاک کی عظمت اور اس کے لافانی پیغام پر روشنی ڈالی،  انہوں نے آنحضرت ﷺکے زمانہ مقدسہ کے واقعات کی روشنی میں واضح کیا کہ چند افراد کے کسی غلط عمل کی سزا نہ مسلمانوں کو دی جا سکتی ہے اور نہ اسلام جیسے پر امن مذہب کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ممتاز داعی اور معروف مقرر برادر عبدالرحیم گرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی معاشرہ میں رہتے ہوئے ہمیں کسی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم امن اور صداقت کے داعی ہیں اس لیے ہمیں معذرت خواہانہ رویہ کی بجائے اپنے استدلال اور مضبوط کردار سے معاشرہ میں رہنا ہے، جب ہم خود اسلام کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اور اپنے اعلیٰ اخلاق سے آگے بڑھیں گے تو غیر مسلموں تک اسلام کی اصل روح خود بخود اجاگر ہو گی۔ اسلام کا پیغام مسکراہٹ کا ہے، ہمارے چہروں پر مسکراہٹ سجی ہو اور محبت بھرا رویہ ہمیشہ یورپ میں تمام مسائل سے نکلنے میں مدد دے گا۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے ناظم اعلیٰ حافظ حبیب الرحمن حبیب نے کانفرنس کا اعلامیہ پیش کیا‘ مرکزی امیر مولانا عبدالہادی العمری نے خطاب کرتے ہوئے کہا: عالمی ذرائع ابلاغ نے جس طرح غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور اظہار خیال کا انداز اپنایا ہے انبیاء کرام علیہ السلام کی توہین‘ ان کے متبعین کی اہانت جیسی غلط حرکتوں میں ملوث افراد کی حمایت اور طرفداری‘ اظہار خیال کی آزادی اور بے جا تاویلات کا بہانہ بنا کر‘ یہ وہ باتیں جو عقیدتمندوں میں انتقامی جذبہ ابھارتی ہیں‘ کیونکہ جب کسی کے جذبات کو غلط انداز میں چھیڑا جائے گا تو لوگ قانونی دائرہ کی پروا کیے بغیر باہر نکل پڑتے ہیں۔ نوجوانوں کے جذبات کو انتہاء پسندی کی طرف لے جانا نسبتاً آسان ہے‘ کیونکہ ان میں درست ٹھوس معلومات کی کمی‘ عصری تقاضوں سے بڑی حد تک ناواقفیت اور اہم امور میں سطحی معلومات جیسے عوامل زیادہ ہوتے ہیں۔

ناظم نشر واشاعت پروفیسر حافظ عبدالاعلیٰ درانی نے خطاب کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی جس کا مشاہدہ انہوں نے خود کیا جب وہ نماز جمعہ کے وقت یروشلم میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ ہمارا قبلہ اول ہے جس کی طرف زیارت کا سفر ہر مسلمان کو کرنا چاہیے، اس کے ذریعہ ہم نہ صرف روحانی اور ایمانی طور پر مضبوط ہوتے ہیں بلکہ پیغمبروں کی سرزمین کے سفر سے تاریخ سے ہمارا رشتہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ کانفرنس سے شیخ واجد ملک‘ شیخ حفیظ اللہ خان مدنی‘ مولانا عبدالستار عاصم‘ مولانا شیر خان جمیل احمد‘ مولانا عبدالباسط العمری نے بھی خطاب کیا۔ مولانا محمود الحسن یزدانی نے استقبالیہ کلمات ادا کیے اور تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا‘ ڈاکٹر عبدالرب ثاقب نے نظم پیش کی‘ سعودی عرب سے آئے ہوئے مہمان حافظ عبداللہ نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی‘ نظامت کے فرائض ناظم تبلیغ حافظ شریف اللہ شاہد اور مولانا شفیق الرحمن شاہین نے انجام دیئے۔ کانفرنس میں برطانیہ بھر سے علمائے کرام جماعتی کارکنان کے علاوہ سینکڑوں افراد نے شرکت کی‘ ہیلی فیکس کی انتظامیہ نے حاجی محمد یٰسین‘ برادر امین‘ برادر عمران رفیق کی قیادت میں بہترین انتظامات کیے۔