روہنگیامسلمانوں کا قتل عام، نیشنل پیس اینڈ جسٹس کونسل کااوآئی سی اور اقوام متحدہ سے میانمار پرپابندی لگانے، تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ

لاہور

لاہور(ویب ڈیسک) نیشنل پیس اینڈ جسٹس کونسل نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اوراوآئی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار پر پابندیاں عائد کی جائیں اور اس سے ہر قسم کے تعلقات ختم کیے جائیں ۔
اپنے مشترکہ بیان میں این پی جے سی کے چیئرمین میاں عبدالوحید ،صفدر علی سرگانہ ،محمد اسلم پہلوان ،اخترخان نیازی ،ندیم نیازی ،ضیاءفرید ،میاں نوید احمد ،میاں وسیم اشرف،محمد نعیم ،راجہ علی،ذوالفقار علی،فوزیہ بطول ،اضراءامجد ،محمد ناصرخان اور کاشف شکیل نے کہاہے کہ میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی میں وہاں کی فوج اور حکومت ملوث ہے جبکہ پولیس کی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد بھی سامنے آچکے ہیں، روہنگیا مسلمانوں کی عورتوں کو اغوا کیاگیا، ان کی عزتوں سے کھلواڑ اور قتل کیاگیا، معصوم بچوں کو سلاخوں پر برہنہ پھینک دیا گیا اور سلاخوں کیساتھ لٹکادیاگیا، عورتوں کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے اور املاک کو نظرآتش کردیاگیا۔

کونسل عہدیداران کاکہناتھاکہ کئی بن بیاہی مسلمان ماﺅں نے برمی فوجیوں کے بچوں کو جنم دیا ، وہاں مسلمانوں کی املاک کو جلانے کے علاوہ قتل عام کے شواہد مٹانے کے لیے لاشیں بھی جلادی گئیں ۔ کونسل کے عہدیداران نے اوآئی سی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طورپرمسلمانوں کا قتل عام رکوایاجائے اوراُنہیں میانمار میں ہی شناخت فراہم کی جائے ، یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ میانمار کی حکومت پر دباﺅ ڈالنے کے لیے اس پر پابندیاں عائد کی جائیں اور ہرقسم کے تعلقات ختم کیے جائیں ۔