پولیس نے مرغی چوری کا بہانہ بنا کر حاملہ خاتون کے جڑواں بچے مار ڈالے

لاہور

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب پولیس کے شیر جوانوں کا انسانیت سوز کارنامہ، مرغی چوری کے مبینہ ملزم کی گرفتاری کے دوران حاملہ خاتون کے پیٹ میں ٹھڈے مار مار کر جڑواں بچے مار ڈالے، واقعہ کو چھپانے کیلئے اہلکاروں سے افسران متحرک، عدالتی احکامات پر بچوں کا پوسٹ مارٹم اور متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ ہوا، ایک بچے کی پسلیاں جبکہ دوسرے کی ٹانگ پیدائش سے قبل ہی ٹوٹی ہوئی تھی، پوسٹمارٹم رپورٹ میں انکشاف، ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجود اعلیٰ افسران ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی بجائے تحفظ دینے میں مصروف، متاثرہ خاندان کا عدالت سے رجوع کرنے پر اغواءکے جھوٹے مقدمے میں ملوث کردیا گیا، مقدمے کا اخراج صلح سے مشروط۔

پاکستانی نوجوان مرغی کیساتھ انتہائی شرمناک حرکت کرتا پکڑاگیا
روزنامہ خبریں کے مطابق حبیب اور اس کے بھائی محمد سعید نے بتایا کہ وہ چک نمبر 18 گ ب تحصیل و ضلع ننکانہ صاحب کا رہائشی ہے اور زمیندار ہے جبکہ اس کے 2 بیٹے عاطف اور طارق شاہکوٹ کے علاقہ میں دودھ دہی کا کاروبار کرتے ہیں۔ متاثرہ شہری کے مطابق 6ستمبر کو محمد یونس ایس ایچ او تھانہ صدر ننکانہ صاحب اور چوکی چک نمبر 5کا انچارج محمد بوٹا ودیگر پولیس اہلکاروں سمیت سرکاری ڈالے میں علی الصبح میرے گھر ریڈ کرنے گیا تو گھر میں موجود خواتین نے بتایا کہ گھر پر کوئی مرد موجود نہیں، آپ کیوں آئے ہو جس پر پولیس نے ان کو بتایا کہ عاطف کے خلاف مرغی چوری کا مقدمہ درج ہے جس پر ہم اسے گرفتار کرنے آئے ہیں تو گھر میںموجود خواتین نے ان کو بتایا کہ عاطف اور طارق قریبی گاﺅں سے دودھ اکٹھا کرنے جبکہ میرے بارے میں انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی زمینوں پر کھیتوں میں گئے ہیں لیکن پولیس نے زبردستی گھر میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے تین عدد مویشی اپنے ساتھ لے گئے۔ اگلے روز 7ستمبر کو پھر انہوں نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا اور میرے داماد محمد نعیم کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیتے ہوئے حوالات میں یہ کہہ کر بند کردیا کہ عاطف کو لاﺅ اور اس کو لے جاﺅ ورنہ ایک لاکھ روپیہ دو، جس پر میں نے لے دے کر 30 ہزار روپے اکٹھے کرکے اسے دئیے اور معززین علاقہ کے سامنے اسے رقم دے کر اپنے داماد کو چھڑواکر لے آیا۔

” جب میں پڑھتا تھا تو قاری صاحب میرے ساتھ زیادتی کرتے تھے، اس لیے میں نے ان بچوں کے ساتھ زیادتی کی اور پھر۔۔۔“ مدرسے کے استاد کا ایسا انکشاف کہ ہرشہری کانپ اٹھے
8 ستمبر کو میں نے اپنے بیٹے عاطف کو معززین علاقہ کی موجودگی میں چوکی انچارج محمد بوٹا کے حوالے کیا جنہوں نے مکمل طور پر چھان بین کی اور میرا بیٹا کسی بھی فوجداری مقدمہ میں ملوث ثابت نہ ہوا لیکن اس کے باوجود پولیس اس دوران عاطف کو چھوڑنے کے عوض مجھ سے 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کرتی رہی اور انکار پر ڈکیتی کے مقدمہ میں ملوث کرکے جعلی پولیس مقابلے میں پار کرنے کی دھمکی دیتی رہی۔ پانچ لاکھ روپے رشوت کے انتظار میں پولیس نے میرے بیٹے کو 8ستمبر سے 30 ستمبر تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ 29 ستمبر کی رات کو ایک مرتبہ پھر محمد یونس ایس ایچ او تھانہ صدر ننکانہ صاحب اور چوکی چک نمبر 5کا انچارج محمد بوٹا دیگر نفری کے ہمراہ ہمارے گھر میں دیواریں پھلانگ کر داخل ہوئے اور اسلحہ کی نوک پر تمام اہل خانہ کو یرغمال بناکرپیسوں کا تقاضا کرنے لگے جس پر میری جانب سے اتنی بڑی رقم نہ ادا کرسکنے کا سن کر وہ میرے گھر کی تلاشی لینے لگے اور گھر میں موجود میرے بیٹوں محمد طارق اور محمد عارف کی جیبوں سے بالترتیب 8 ہزار 1500 روپے، بیٹی صوبیہ کی ایک تولہ کی طلائی بالیاں اور موبائلز سمیت دیگر قیمتی سامان اٹھالیا جس پر میری بہو صوبیہ بی بی نے جب انہیں ایسا کرنے سے منع کیا تو محمد یونس ایس ایچ او تھانہ صدر ننکانہ صاحب اور چوکی چک نمبر 5 کا انچارج محمد بوٹا نے میری بہو جو کہ تقریباً 7 ماہ کی حاملہ تھی کو دھکا دے کر زمین پر گرایا اور اس کے پیٹ میں ٹھڈے مارنے شروع کردئیے جس پر اس کی حالت غیر ہوگئی جبکہ پولیس میرے دونوں بیٹوں کو زبردستی اپنے ہمراہ چوکی لے گئی۔

حجرہ شاہ مقیم: باپ نے جواں سال بیٹی چند کوڑیوں میں بیچ دی، 7روز تک زیادتی
متاثرہ شہری نے مزید بتایا کہ جب میں اپنی بہو کو ہسپتال لے کر گیا تو وہاں اس نے جڑواں بچوں کو جنم دیا جو کہ پولیس کے ٹھڈوں کی وجہ سے شدید زخمی ہونے کی وجہ سے چند منٹ سانسیں لینے کے بعد دم توڑ گئے جس پر میں نے بہو کا طبی ملاحظہ اور پوتوں کا پوسٹمارٹم کروانے کی کوشش کی تو پولیس نے کروانے سے انکار کرتے ہوئے تدفین پر زور دینا شروع کردیا جس پر میں نے عدالت کے ذریعے طبی معائنے اور پوسٹمارٹم کے آرڈر حاصل کئے جس پر بہو کا طبی ملاحظہ اور بچوں کا پوسٹمارٹم تو ہو گیا لیکن پولیس کی ساز باز سے ڈاکٹروں نے بھی مکمل طور پر غیر جانبدار رپورٹ مرتب نہ کی تاہم پوسٹمارٹم رپورٹ میں یہ واضح ہوگیا کہ بچوں کی موت قبل از وقت رحم میں ہونے والے تشدد کے باعث ایک کی پسلیاں ٹوٹنے اور دوسرے کی ٹانگ ٹوٹنے سے ہوئی جس کی تکلیف ننھی جانیں برداشت نہ کرپانے پر موت کی آغوش میں چلی گئیں۔
اس تمام واقعے کا علم ہوتے ہی ننکانہ صاحب کے اعلیٰ افسران بھی حرکت میں آگئے اور معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے شاہکوٹ تھانے میں پولیس نے اپنے کسی آدمی کی وساطت سے میرے بیٹوں محمد عاف اور محمد طارق کے خلاف اغواءکی جھوٹی ایف آئی آر درج کرکے انہیں تھانہ شاہکوٹ لے گئی جہاں ان پر شدید تشدد کے بعد انہیں حوالات میں بند کردیا اور ہم پر دباﺅ ڈالنا شروع کردیا کہ عدالت میں پولیس کے خلاف تمام رٹیں ختم کرو تو تمہارے بیٹوں کے خلاف درج اغواءکی ایف آئی آر خارج کردیں گے نہیں تو وہ جیل جائیں گے یا پولیس مقابلے میں پار کردیا جائے گا۔