پولیس کی نالائقی سے ملزم بری ہوجاتے ہیں ،عدالتیں قانون سے باہر نہیں جاسکتیں ،وکیل جادوگر نہیں ہوتا،سپریم کورٹ

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمہ میں ملوث ملزم کو دو لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وکیل کوئی جادوگر نہیں ہوتا، ملزم پولیس کی نالائقیوں کی وجہ سے بری ہو جاتے ہیں اور جج کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ قانون سے باہر نہیں جا سکتے۔

دہشتگردوں کیخلاف کارروائی نہ کرنا سرحد پار ہماری تحمل کی پالیسی کا امتحان ہے،آرمی چیف کا امریکی کمانڈر کو ٹیلی فون

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ملزم فرخ جاوید کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ خوشاب پولیس نے سجاد کو قتل کرنے کے الزامات کے تحت درج مقدمہ میں بے بنیاد ملوث کیا جبکہ پہلی تفتیش میں ملزم کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا اور پولیس تفتیش کے مطابق وقوعہ کے وقت ملزم جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا مگر ملزم کو ناکردہ گناہ کے باوجود جیل میں قید رکھا گیا ہے لہٰذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے، قتل کے مقدمہ کی مبہم تفتیش کرنے پر آر پی او سرگودھا ذوالفقار اور ڈی پی او خوشاب عدالتی حکم پر پیش ہوئے اور بتایا کہ تفتیش میں واضح لکھا گیا ہے کہ ملزم قتل کے وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا تا ہم ملزم نے مقدمہ کی تین بار ہونے والی تفتیش میں اپنا بیان بدلا ہے.

عدالت نے آر پی او سرگودھا کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اپنے تفتیشی افسروں کو تفتیش کے بنیادی اصول سکھائیں کہ تفتیش کو قانون میں کیسے لانا ہے ، عدالت نے کہا کہ لاہور میں ایک بھی ایس ایچ او ایسا نہیں جو خود ضمنیاں لکھتا ہو ، تمام ایس ایچ اوز نے ریٹائرڈ تھانیدار رکھے ہوئے ہیں جو ضمنیاں تحریر کرتے ہیں، عدالت نے قتل کے مقدمہ میں ملوث ملزم کو دو لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وکیل کوئی جادوگر نہیں ہوتا، ملزم پولیس کی نالائقیوں کی وجہ سے بری ہو جاتے ہیں اور جج کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ قانون سے باہر نہیں جا سکتے۔