ہائی کورٹ نے محکمہ ماحولیات کو آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا اختیار دے دیا

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی تحفظ کے قانون کی تشریح کرکے محکمہ ماحولیات کوآلودگی پھیلانے والے صنعتی اداروں اورفیکٹریوں کو سربمہر کرنے کا اختیار دے دیا ہے ۔

دہشتگردوں کو بلاتفریق اور بے رحمی سے ٹارگٹ کیا جائے گا :آرمی چیف

مسز جسٹس عائشہ اے ملک نے محکمہ ماحولیات کے اختیارات پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے، عدالتی فیصلے میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سمعیہ خالد کی طرف سے ماحولیاتی آلودگی پر سپریم کورٹ اور بھارتی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے ماحولیاتی انصاف کے قوانین پر عملدرآمد پر زور دیا گیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر محکمہ ماحولیات بھی کسی کارخانے کو سربمہر کر سکتا ہے، انوائرمنٹ پروٹیکیشن ایکٹ کی دفعہ 16محکمہ ماحولیات کو سربمہر کرنے کا اختیار دیتی ہے، ماحولیاتی آلودگی سے انسانی صحت کے نقصانات کا آزالہ نہیں ہوسکتا ہے، انسانی صحت کو نقصانات سے بچانے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جانے چاہیں، ہنگامی اقدامات میں متاثرہ فریق کوپہلے شنوائی کا حق دینے کااصول بھی لاگو نہیں ہوتا، محکمہ ماحولیات کارروائی کے بعد بھی متاثرہ فریق کو شنوائی کا حق دے سکتا ہے.

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آلودگی سے پاک ماحول عوام کے زندگی کے آئینی حق میں شامل ہے اس لئے ماحولیاتی انصاف کے لئے ریاست اور ادارے قوانین پر عملدرآمد کریں، عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ موقف غلطی فہمی پر مبنی ہے کہ آلودگی میں ملوث فیکٹریوں کو سربمہر کرنے کا اختیار صرف ماحولیات ٹربیونل کے پاس ہے۔یہ اختیار محکمہ ماحولیات بھی استعمال کرنے کا مجاز ہے ۔