چیف جسٹس نے افسروں کی گمراہ کن بریفنگ پر ہونے والے تبادلوں کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے عدالت عالیہ کے 23اعلی افسروں کے تبادلوں کے حکم پر عملدرآمد روک دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی خاتون اینکر کی ایسی شرمناک ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک ہوگئی کہ دیکھ کر آپ بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیں گے

چیف جسٹس نے اعلیٰ افسروں کے تبادلوں کی پالیسی پر مزید معاونت طلب کر لی، جن افسروں کے تبادلوں کے نوٹیفکیشنز پر عملدرآمد روکا گیا ہے ان میں ڈپٹی رجسٹرار اشفاق احمد، علی زمان، جانسن برنارڈ، مرزا انعام اللہ، خالد محمود اور لیاقت علی بھی شامل ہیں جبکہ اسٹنٹ رجسٹراروں میں عثمان شاہد، محمد نسیم، عابد چودھری، حافظ سجاد، محمد ندیم، ریاض احمد خان، اظہار الحق، بشارت محمود، اشفاق احمد ، اللہ دتہ خالد، مقصود چودھری، عثمان شوکت، طارق محمود، محمد ثقلین، اخلاق بلوچ، اسلم لودھی اور محمد یحیی شامل ہیں، 15فرروری کو بھی اسسٹنٹ رجسٹرار پروٹوکول راولپنڈی بنچ اظہار الحق اور حافظ سجاد کے تبادلے پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق عدالت عالیہ کے چند افسروں کی طرف سے چیف جسٹس کو غلط بریفنگ دی گئی تھی جس کے بعد مذکورہ تبادلوں کے احکامات جاری کئے گئے تھے تاہم حقائق علم میں آنے کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر تبادلوں کے نوٹیفکیشنز پر عملدرآمد روک دیا ہے ۔