سپریم کورٹ نے رشتہ نہ دینے پر خاتون لیکچرار پر تیزاب پھینک کر بیرون ملک فرار ہونے والے ملزم کی گرفتاری کا حکم دے دیا

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے رشتہ نہ دینے پر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی لیکچرار پر تیزاب پھینکنے کے مقدمہ میں ملوث ملزم کے بیرون ملک فرار ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور کو ملزم کو مارچ کے تیسرے ہفتے تک گرفتار کرنے کا حکم دے دیاہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میںجسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے مجرم عبدالحق کی بریت اپیل پر سماعت کی، مجرم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ستوکتلہ پولیس نے شاہد خالد کی درخواست پر نامعلوم ملزموں کے خلاف ہماشاہد پر تیزاب پھنکنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا جس پر انسداد دہشت گردی عدالت نے ناکافی شواہد اور مقدمہ کے مرکزی ملزم عمر فاروق کے بیرون ملک فرار ہونے کے باوجود مجرم عبدالحق کو 24سال قید اور 11لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے اور لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے ،ناکافی شواہد کی بنیاد پر ملزم کی سزا کالعدم کی جائے، ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرلٹرائل کورٹ نے مجرم عبدالحق کو ٹھوس شواہد کی روشنی میں سزا سنائی ہے ،بریت کی اپیل مسترد کی جائے، عدالتی حکم پر سی سی پی او لاہور امین وینس، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سلطان چودھری اور ایس پی صدر انویسٹی گیشن عاطف نذیر پیش ہوئے.

سی سی پی او لاہور نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم عمر فاروق کی بہن ارم شہزادی نے یو ایم ٹی کی لیکچرار ہما شاہد کا رشتہ اپنے بھائی مانگا تھا مگر انکار ہونے پر مفرور ملزم عمر فاروق نے ساتھی مجرم عبدالحق کے ساتھ مل کر 2014ءمیں ہما شاہد پر تیزاب پھینک دیا، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عمر فاروق ضمانت حاصل کرنے کے بعد چین فرار ہو چکا ہے اور مفرور ملزم کے ریڈ نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں اور ملزم کو جلد انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے ٹرائل کورٹ میں پیش کر دیا جائے گا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت مارچ کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور کو حکم دیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔