سانحہ ماڈل ٹاﺅن ،سابق ڈی سی او لاہور کیپٹن عثمان سمیت 100ملزمان نے اے ٹی سی میں پیش ہو کرضمانتی مچلکے جمع کرا دئیے

لاہور

لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے استغاثہ میں سابق ڈی سی او لاہور کیپٹن عثمان سمیت 100ملزمان نے گزشتہ روزپیش ہو کرضمانتی مچلکے جمع کرا دئیے جبکہ فاضل جج نے آئی جی پنجاب سمیت 14ملزمان کی جانب سے پیش نہ ہونے پر انہیں دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 28فروری تک ملتوی کردی ۔

پی ایس ایل کھیلنے والے چار کھلاڑیوں کو انگلینڈ نے دورہ ویسٹ انڈیز کیلئے طلب کر لیا

انسداد دہشت گردی کے جج چودھری محمد اعظم نے ماڈل ٹاون استغاثہ کی سماعت شروع کی توعوامی تحریک کے وکیل رائے بشیر نے موقف اختیار کیا کہ قانون کے تحت 120ملزمان کو طلبی کے نوٹس جاری کرنے کی بجائے گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ استغاثہ کے بعض ملزمان ماڈل ٹاﺅن واقعہ کے حوالے سے درج دو مختلف مقدمات میں بھی نامزد ہیں ،تینوں کیسوں کی سماعت ایک ہی تاریخ میں رکھی جائے تاکہ الگ سے نوٹس جاری نہ کرنے پڑیں۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے استغاثہ میں آئی جی پنجاب سمیت 14ملزمان کو طلبی کے نوٹس موصول نہیں ہوئے جبکہ 100ملزمان عدالت میں پیش ہو گئے ہیںاورعدالتی حکم پرانہوں نے 5، 5لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کرا دئیے ہیں.

عدالت کو مزیدبتایا گیا کہ مقدمے میں نامزد ملزم انسپکٹر شاہ نواز، انسپکٹر اعجاز رشید اور دو اے ایس آئی محمد احمد اور برہان طبی موت فوت ہو چکے ہیں جبکہ 6ملزم پولیس اہلکار ماڈل ٹاون مقدمے میں جیل میں ہیںجس پر عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ستغاثہ میں آئی جی پنجاب سمیت 14ملزمان کو طلبی کے دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کردی ہے ۔