ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے حکم امتناعی جاری کردیا،رنگ روڈ ایس پی ایل تھری کا منصوبہ پھر التواءکا شکار ہوگیا

لاہور

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے انٹراکورٹ اپیل پربحریہ ٹاﺅن کے حق میں عبوری حکم امتناعی جاری کردیا ہے جس کے باعث رنگ روڈپی ایس ایل تھری منصوبے کی تعمیرایک مرتبہ پھر التواءکا شکارہوگی ہے۔

جسٹس شاہد کریم وزیراعلیٰ پنجاب کی نااہلی کے لئے دائر عمران خان کی درخواست کی سماعت کریں گے

فاضل بنچ نے رنگ روڈ اتھارٹی کو بحریہ ٹاو ¿ن کی حدودمیں منصوبے کی زد میں آنے والی تعمیرات کو تاحکم ثانی گرانے سے روکتے ہوئے جواب بھی طلب کرلیا ہے ۔ بحریہ ٹاﺅن کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کارنگ روڈ پی ایس ایل تھری کی تعمیر کی اجازت دینے کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے،درخواست گزار نے یہ اعتراض اٹھایاکہ رنگ روڈ منصوبے کے لئے اراضی کو ہنگامی بنیادوں پر ایکوائر کرنے کا اقدام قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں۔حکومت کے پاس رنگ روڈ منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے فنڈز بھی موجود نہیں اور ابھی منصوبے کی تعمیرکامعاہدہ بھی نہیں کیاگیا، عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سنگل بنچ کے فیصلے کوکالعدم قراردے کرحکومت کوبحریہ ٹاﺅن کی اراضی ایکوائرکرنے سے روکا جائے۔ کمشنر عبداللہ سنبل ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شان گل اور سمعیہ خالد کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔سرکاری وکلاءنے جسٹس شاہد کریم کے کیس سننے پر تحفظات کا اظہارکیا کہ وہ رنگ روڈ منصوبے کے حوالے سے دائر درخواست میں فل بنچ کاحصہ رہے ہیں ،اس لئے مناسب ہے کہ وہ کیس کی سماعت نہ کریں۔سرکاری وکلا کا مزید کہنا ہے کہ ابھی تک سنگل بنچ کا تحریری فیصلہ جاری نہیں ہوا اس لئے درخواست سماعت کے لئے منظور نہ کی جائے۔عدالت نے کمشنر سے منصوبے کی زد میں آنے والی تعمیرات کو گرانے کے حوالے سے استفسار کیاجس پر کمشنر نے کہا کہ وہ بحریہ ٹاﺅن کی رضامندی کے بعد ہی تعمیرات گرائیں گے ،کسی کا زبردستی گھر نہیں گرایا جائے گا۔عدالت نے فریقین کے وکلاءکے ابتدائی دلائل سننے کے بعد رنگ روڈ اتھارٹی کو بحریہ ٹاﺅن کی حدود میں آنے والی تعمیرات کو تاحکم ثانی گرانے سے روکتے ہوئے پنجاب حکومت اور رنگ روڈ اتھارٹی سے 24 جولائی تک جواب طلب کرلیاہے۔