گردہ سکینڈل کیس ، مرکزی ملزم ڈاکٹر التمش اوردیگرملزمان کی میڈیا کوریج پر صحافیوں کو غلیظ گالیاں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں

لاہور

لاہور(نامہ نگار)ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری،گردہ سکینڈل کے مرکزی ملزم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکرٹری ڈاکٹر التمش سمیت دیگر ملزمان بدمعاشی پر اتر آئے، ملزم ضلع کچہری میں پیشی کے وقت میڈیا کو کوریج کرنے پر غلیظ گالیاں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع ہو گئے۔

جسٹس شاہد کریم وزیراعلیٰ پنجاب کی نااہلی کے لئے دائر عمران خان کی درخواست کی سماعت کریں گے

جوڈیشل مجسٹریٹ فاروق اعظم سوہل کی عدالت میں ملزموں ڈاکٹر التمش، ڈاکٹر فواد، ایجنٹ ثاقب خان سمیت 11ملزموں کا جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر جیل سے پیشی پر لایا گیا، ملزم ڈاکٹر التمش نے کوریج کرنے اور فوٹیج بنانے پر میڈیا نمائندوں پر جوس کی بوتل دے ماری اور غلیظ زبان میں گالیاں نکالنے کے ساتھ سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اس دوران ملزم ڈاکٹر التمش کے والد قمر الزمان کھرل بھی بدمعاشی میں پیچھے نہیں رہے اور ملزم کی ویڈیوبنانے پر ڈاکٹر التمش کے والد نے میڈیا پر حملہ کرتے ہوئے کیمرے چھیننے کی کوشش کی، ملزم ثاقب خان نے بھی میڈیا کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا رہا۔عدالت نے جیل سے حاضری کے لئے لائے گئے گردہ سکینڈل کے ملزموں کی حاضری مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر التمش سمیت 11ملزموں کو 27جولائی کو حاضری کے لئے طلب کر لیاگیا ہے۔دریں اثناءضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے گردہ سکینڈل کے سہولت کار کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 19جولائی کو ریکارڈ سمیت بحث کے لئے طلب کر لیا ہے۔جوڈیشل مجسٹریٹ فاروق اعظم سوہل نے ملزم فضائل اشفاق کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم فضائل اشفاق کو گردہ سکینڈل کے مقدمہ میں بے بنیاد ملوث کیا گیا ہے جبکہ ملزم مقدمہ میں نامزدہی نہیں ہے اور نہ ہی ملزم کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا ہے، ملزم کے وکیل نے مزید موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کے پاس ملزم کے خلاف ڈاکٹر التمش اور ڈاکٹر فواد کے ایجنٹ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں، ملزم اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہے اور ملزم کو بلاوجہ جیل میں رکھا گیا ہے ،ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کاحکم دیا جائے، عدالت نے گردہ سکینڈل کے سہولت کار کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 19جولائی کو ریکارڈ سمیت بحث کے لئے طلب کر لیاہے۔دوسری جانب ایف آئی اے کی مبینہ غفلت کی وجہ سے گردہ سکینڈل کی تحقیقات 3ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکیں، جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں گردہ سکینڈل کا نامکمل چالان پیش کر دیا گیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ فاروق اعظم سوہل کی عدالت میں ایف آئی اے کی جانب سے گردہ سکینڈل کے ملزموں کے خلاف پیش کئے گئے نامکمل چالان میں مرکزی ملزم ڈاکٹر التمش، ڈاکٹر فواد، آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ عمر دراز، شہزاد، نوید حمید اور اطہر محمود کو گنہگار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ ملزم ثاقب کو پاکستان میں گردوں کی غیر قانونی فروخت اور پیوند کاری کروانے والے گروہ کا سرغنہ قرار دیا گیا ہے، گردہ سکینڈل کے نامکمل چالان میں ڈاکٹر فواد کے ایجنٹ عبدالمجید اور صفیہ بی بی جبکہ گردہ سکینڈل کے سہولت کاروں ملزم فضائل، قمر عباس اور ڈاکٹر ظفر جاوید کو بھی مقدمہ میں گنہگار قرار دیا گیا ہے، نامکمل چالان میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر گردہ حاصل کرنیوالی غیر ملکی ملزمہ منیرہ احمد جبکہ غیر قانونی طور پر گردہ فروخت کرنیوالے ملزم سید عامر اور ناہید اختر ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں، گردہ سکینڈل کے نامکمل چالان میں چھپن گواہوں کا ذکر کیا گیا ہے، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ گردہ سکینڈل میں بڑی تعداد میں گواہ ہونا کیس کمزور کرنے کے مترادف ہے اور مقدمہ میں گواہوں کی زیادہ تعداد ہونے سے کیس التواءکا شکار ہو جائے گا، قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی اے کی ملزموں سے مبینہ ملی بھگت سے مقدمہ میں گواہوں کی تعداد زیادہ رکھی گئی ہے اور مقدمہ میں گواہوں کی تعداد زیادہ ہونے سے گردہ سکینڈل کے ملزموں کے بآسانی ضمانت پر رہا ہونے کا خدشہ ہے۔