’’اگر مظلوم کی بات نہیں ہوسکتی تو یہ ایوان آپ کو مبارک ہو ‘‘سپیکر کی عدم توجہگی پر حکومتی رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری سیخ پا ہو گئیں ،اجلاس سے اٹھ کر چلی گئیں

لاہور

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکمران جماعت کی خاتون رکن اسمبلی عظمیٰ بخاری بااثر شخصیت کے بیٹے کی طرف سے خنجروں کے خطرناک وار میں زخمی ہونیوالی لڑکی سے متعلق اٹھائے گئے معاملے پر سپیکر کی عدم توجہگی کے باعث ایوان سے احتجاجاً باہر چلی گئیں ،جبکہ خاتون رکن اسمبلی کا کہنا تھا اگر مظلوم کی بات نہیں ہو سکتی تو یہ ایوان آپ کو مبارک ہو ۔

وقفہ سوالات کے بعد نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے (ن) لیگ کی رکن اسمبلی عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہم عوام کے نمائندے ہیں اوریہاں مسائل پر بات ہونی چاہیے ۔ملک میں خواتین کے حوالے سے صورتحال ناقابل برداشت اور خوفناک حد تک خراب ہو چکی ہے ۔لاہور میں خدیجہ نامی لڑکی پر خنجرکے 23وار کیے گئے اور ملزم بااثر وکیل کا بیٹا ہے جس نے اسے ذہنی مریض قرار دلوا کر اس کی ضمانت بھی کروا لی ہے ،اب کوئی وکیل اس بچی کا کیس لینے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی کوئی جج اس لڑکے کی ضمانت منسوخ کر رہا ہے ، خادم اعلیٰ ویسے تو ہر مظلوم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں کیا اس بچی کو ہماری توجہ کی ضرورت نہیں؟ کیونکہ یہ کسی اور کی بچی ہے ,ہم ایوان میں سب بچیوں والے ہیں , اگر ہم کھڑے نہ ہوئے تو یہ بہت غلط ہو گا , چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اس پر کیوں نوٹس نہیں لے رہے ? انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین پر مظالم کے مقدمات میں سزائیں دینے کی شرح ایک فیصد بھی نہیں , میں اس معاملے کو اجاگر کرنے پر میڈیا کے کردار کو سراہتی ہوں۔ اس موقع پر عظمی بخاری نے کہا کہ سپیکر صاحب میں بات کر رہی ہوں اور آپ نے منہ ادھر کر لیا ہے . انہوں نے صورتحال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ میں قرار داد لانا چاہتی ہوں جس میں درج ہو گا کہ بچیاں پیدا ہوتے ہی زندہ درگود کر دیں , یہاں یہ حالت ہے کہ آپ میری بات سننے کے لئے تیار نہیں, جس پر سپیکر نے انہیں کہا کہ آپ کیا کر رہی ہیں ?  آپ اس معاملے پر کوئی قرار داد لے کر آئیں , جس پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آپ میری بات سننے کو تیار نہیں ، میں ایسے ایوان میں آنے کے لئے تیار نہیں ہوں جس ایوان میں مظلوم کی بات نہیں ہو سکتی یہ ایوان آپ کو مبارک ہو ,جس کے بعد وہ احتجاجاً ایوان سے باہر چلی گئیں ۔