ہائی کورٹ کے ججوں کی تعیناتی کی عمر40سال کرنے،مصطفی کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر موثر بنانے کے لئے آئینی ترامیم تیار

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )حکومت نے ہائیکورٹس میں ججوںکی تعیناتی کی کم ازکم عمر 45سے کم کرکے 40سال کرنے اور کابینہ کی آئینی تعریف تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے جس سے مصطفی کیس میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ غیر موثر ہوجائے گا۔

وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ ، آل پاکستان وکلاءکنونشن تنازع کی شکل اختیار کرگیا ،کنوشن کے حامی سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری معطل

اس سلسلے میں وزیر قانون زاہد حامد کی طرف سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 29ویںآئینی ترمیم کے لئے بل جمع کروایا گیا ہے، اس بل میں آئین کے آرٹیکل 193میں ترمیم کر کے ہائیکورٹس میں ججز کی تعیناتی کی عمر 45سال سے کم کر کے 40سال کی جا رہی ہے، 29ویں ترمیم کے مجوزہ بل کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 48میں تجویز کی گئی ترمیم کے تحت حکومت سپریم کورٹ کے مصطفی کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے آزاد ہوجائے گی ۔سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں وفاقی کابینہ کو وفاقی حکومت قرار دیتے ہوئے قراردیا تھا کہ وزیر اعظم اپنے فیصلوں میں کابینہ کی منظوری کے پابند ہیں ،اب آرٹیکل 48میں ترمیم کر کے وفاقی حکومت کی آئینی تعریف تبدیل کی جا رہی ہے، ترمیم کے بعد آئین میں وزیر اعظم کے لفظ کے بعد وزیر یا کابینہ کا نامزد وزیر کے الفاظ شامل ہو جائیں گے اور کابینہ کے لفظ سے آگے وزیر یا وزیر مملکت کے الفاظ کا اضافہ ہوگا جس کے بعد حکومت کسی بھی اہم فیصلے کی وفاقی کابینہ سے منظوری کی عدالتی پابندی سے آزاد ہو جائے گی ۔دوسری طرف پاکستان بار کونسل نے ججوںکی تعیناتی کی عمر 40برس کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، ممبر پاکستان بار یاسین آزاد کا کہنا ہے کہ ججز کی تعیناتی کی عمر 40برس کرنا نظام عدل کے ساتھ کھلی دشمنی ہے، پہلے ہی ججز میں قابلیت اور تجربے کا فقدان ہے ،اوپر سے مزید ناتجربہ کار لوگ نظام میں داخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، 1997ءمیں بھی عمر کی حد 40برس کی گئی تھی لیکن بعد میں اس میں اضافہ کرنا پڑاتھا اوریہ ترمیم پھر 2010ءمیں واپس ہو گئی تھی، یاسین آزاد نے کہا کہ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی اپنے بیٹوں کو سپریم کورٹ کی وکالت کا لائسنس دینے کے لئے وکالت کی پریکٹس کی حد 10سال سے کم کر کے 7برس کی گئی جس کے بعد سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے بیٹوں کو سپریم کورٹ کی وکالت کا لائسنس دے کر نوازا گیا۔ اگر کسی کو نوازنے کے لئے ججوں کی تعیناتی کی عمر میں کمی کی جارہی ہے تو یہ آئین سے کھلواڑ کے مترادف ہے ۔