لاہورکالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرعظمیٰ قریشی کی اہلیت لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورکالج برائے خواتین یونیورسٹی کی ممکنہ وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرعظمیٰ قریشی کی اہلیت کو لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے.

وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ ، آل پاکستان وکلاءکنونشن تنازع کی شکل اختیار کرگیا ،کنوشن کے حامی سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری معطل

جسٹس علی باقرنجفی نے کیس مزید سماعت کے لئے چیف جسٹس کوبھجوادیا،لاہورکالج برائے خواتین یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسرغزالہ نورین نے ملک اویس خالد ایڈووکیٹ کی وساطت سے لاہورہائیکورٹ میں درخواست دی۔درخواست میں چیئرمین ہائرایجوکیشن کمیشن سمیت دیگر کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیاہے کہ لاہورکالج برائے خواتین یونیورسٹی کی ممکنہ وی سی پروفیسرڈاکٹرعظمیٰ قریشی کے تحقیقی مقالہ جات کی تعداد پوری نہیں اور وہ ایچ ای سی کی تسلیم شدہ یونیورسٹی کا 12سالہ تدریسی تجربہ بھی نہیں رکھتیں۔درخواست گزارکا کہنا ہے کہ ڈاکٹرعظمیٰ قریشی پروفیسر کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتیں جبکہ ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اہلیت کے برعکس انہیں تقرری کے لئے شارٹ لسٹ کر لیا۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اہلیت پر پورا نہ اترنے پر ڈاکٹرعظمیٰ قریشی کی وی سی کے لئے شارٹ لسٹنگ کے اقدام کو کالعدم قرار دیاجائے۔ جسٹس علی باقرنجفی نے درخواست گزارکے وکیل ملک اویس خالد کے دلائل سننے کے بعد کیس مزید سماعت لئے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کو بھجواتے ہوئے قراردیا کہ اس نوعیت کے دیگرکیسز کی سماعت چیف جسٹس کرچکے ہیں ،مناسب ہے کہ وہ اس کیس کی بھی سماعت کریں۔